کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسجد کے امام صاحب سے دینی کتب پڑھتا ہوں اور گھر کے بجائے مسجد میں رہنا پسند کرتا ہوں، کیا میرے لۓ طالب کی حیثیت سے مسجد میں رہنا جائز ہے؟
۲۔ مسجد کو تراویح میں ختم القرآن کی رات اور عید کی صبح معطر کرنا اور عید کی صبح زیارتِ قبور کے وقت قبروں کو معطر کرنا جیسے اگر بتی وغیرہ جلائی جاتی ہے جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث سے وضاحت فرمائیں۔
۱۔ اعتکاف کی نیت سے مسجد میں بھی ٹھہر سکتے ہیں،مگر کھانے پینے وغیرہ کی اشیاء کے ذریعے مسجد کی تلویث سے احتراز چاہیۓ۔
۲۔ مساجد کو معطر رکھنا ایک محمود عمل ہے، مگر یہ مذکور ایّام کے ساتھ مخصوص نہیں، اسی طرح قبروں پر مذکور عمل کرنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں، اس سے احتراز چاہیۓ۔
ففی حاشية ابن عابدين: يكره النوم والأكل في المسجد لغير المعتكف وإذا أراد ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيذكر الله تعالى بقدر ما نوى أو يصلي ثم يفعل ما شاء. اهـ. (2/ 448)۔
وفی الفتاوى الهندية: ويكره النوم والأكل فيه لغير المعتكف، وإذا أراد أن يفعل ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيه ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى أو يصلي ثم يفعل ما شاء، كذا في السراجية.ولا بأس للغريب ولصاحب الدار أن ينام في المسجد في الصحيح من المذهب، والأحسن أن يتورع فلا ينام، كذا في خزانة الفتاوى.(5/ 321)۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن عائشة قالت: أمر رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ببناء المسجد في الدور و أن ينظف ويطيب. رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه اھ(1/ 223)۔