نجاسات اور پاکی

جنبیہ عورت کا بچے کو غسل کیے بغیر دودھ پلا نا

فتوی نمبر :
59342
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

جنبیہ عورت کا بچے کو غسل کیے بغیر دودھ پلا نا

کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جُنبیہ عورت اپنے بچے کو بغیر غسل کے دودھ پلا سکتی ہے یا نہیں؟ اگر بغیر غسل کے پلا دے تو اس پر کفارہ لازم ہوتا ہے یا نہیں یا پھر وہ بغیر غسل لیکن مع الوضوء پلا سکتی ہے یا نہیں؟ دلائل کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عورت کے لۓ ایسی حالت میں بھی بچہ کو دودھ پلانا بلاشبہ جائز اور درست ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ طہارت کا خیال رکھے۔

مأخَذُ الفَتوی

في سنن الترمذي: عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم لقيه وهو جنب قال [ فانبجست] أي فانخنست فاغتسلت ثم جئت فقال أين كنت ؟ أو أين ذهبت ؟ قلت إني كنت جنبا قال إن المسلم لا ينجس قال أبو عيسى و حديث أبي هريرة [ أنه لقي النبي صلى الله عليه و سلم وهو جنب ] حديث حسن صحيح وقد رخص غير واحد من أهل العلم في مصافحة الجنب ولم يروا بعرق الجنب والحائض بأسا اھ(1/ 207)۔
وفي سنن أبى داود: عن عائشة قالت كنت أتعرق العظم وأنا حائض فأعطيه النبى -صلى الله عليه وسلم- فيضع فمه فى الموضع الذى فيه وضعته وأشرب الشراب فأناوله فيضع فمه فى الموضع الذى كنت أشرب منه اھ (1/ 107)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59342کی تصدیق کریں
0     737
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات