کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی استنجاء کر لے اور استنجاء کے بعد پیشاب کا قطرہ خصیتین کے ساتھ لگ جائے اور آدمی اس قطرہ کو دوبارہ پانی سے صاف نہ کرے، بلکہ ویسے ہی رگڑلے اور اس کے بعد مکمل وضو کر کے نماز پڑھ لے تو آپ سے اس بارے میں پوچھنا ہے کہ آیا اس وضو کا اعادہ ہوگا یا نہیں؟ مہربانی فرما کر قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔
اگر مذکور نجاست قدرِ درہم یعنی ہتھیلی کے گڑھے کے پھیلاؤ کے برابر یا اس سے کم ہو تو اس طرح پڑھی ہوئی نماز مع الکراہۃ درست ادا ہو چکی ہے، واجب الاعادہ نہیں، مگر آئندہ اس طرح کرنے سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار: (ويجب) أي: يفرض غسله (إن جاوز المخرج نجس) مائع ويعتبر القدر المانع لصلاة اھ(1/ 338)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: ويجب أي: يفرض غسله) أعاد الضمير على الغسل دون الاستنجاء؛ لأن غسل ما عدا المخرج لا يسمى استنجاء، وفسر الوجوب بذلك؛ لأن المراد بالمجاوزة ما زاد من الدرهم بقرينة ما بعده، ولقوله في المجتبى " لا يجب الغسل بالماء إلا إذا تجاوز ما على نفس المخرج وما حوله من موضع الشرج وكان المجاوز أكثر من قدر الدرهم ". اهـ. (1/ 338)۔