کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک سات فٹ چوڑا ،۱۵ فٹ لمبا اور ۱۰ فٹ گہرا پانی کا ٹینک ہے، اس میں دو چوہے گر کر مر جائیں، جبکہ وہ چوہے پھٹ بھی گئے ہوں تو ایسی صورت میں اس ٹینک کی صفائی اور پاک کرنے کا کیا طریقہ ہوگا؟ نیز بے خبری کی وجہ سے اس ٹینک کے پانی سے جو وضو کیا گیا اور اس وضو سے نمازیں پڑھی گئی ہیں، کیا ان نمازوں کو لوٹانا ہوگا؟ اگر لوٹانا ہے تو کتنے دن کی نمازوں کو لوٹا نا ہوگا ؟ براہِ کرم اس مسئلہ سے آگاہ فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ٹینک میں چوہا گر کر پھٹ جانے کی وجہ سے اس کا سارا پانی ناپاک ہو گیا ہے، اب اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا سارا پانی نکال کر گرا دیا جائے اور بے خبری میں اس پانی کو استعمال کر کے جتنے دنوں تک نمازیں پڑھی ہوں ، اس کا یقینی علم نہ ہونے کی وجہ سے کم از کم تین دن کی نمازیں لوٹائیں جائیں اور جن چیزوں کو اس پانی سے دھویا ہے ان کو دوبارہ دھو لیا جائے۔
فی الفتاوى الهندية: وإن مات فيها شاة أو كلب أو آدمي أو انتفخ حيوان أو تفسخ ينزح جميع ما فيها صغر الحيوان أو كبر. هكذا في الهداية وكذا إذا تمعط شعره فهو كالتفسخ. كذا في السراج الوهاج. (1/ 19)۔
وفیها أیضا: وإذا وجد في البئر فأرة أو غيرها ولا يدرى متى وقعت ولم تنتفخ أعادوا صلاة يوم وليلة إذا كانوا توضئوا منها وغسلوا كل شيء أصابه ماؤها وإن كانت قد انتفخت أو تفسخت أعادوا صلاة ثلاثة أيام ولياليها وهذا عند أبي حنيفة رحمه اللہ - وقالا: ليس عليهم إعادة شيء حتى يتحققوا متى وقعت. كذا في الهداية وإن علم وقت وقوعها يعيدون الوضوء والصلاة من ذلك الوقت بالإجماع اھ(1/ 20)۔