نجاسات اور پاکی

واشنگ مشین میں پاک و ناپاک مخلوط کپڑوں پاک کرنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
59534
| تاریخ :
2007-09-20
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

واشنگ مشین میں پاک و ناپاک مخلوط کپڑوں پاک کرنے کا طریقہ

میرا سوال یہ ہے کہ کپڑوں کو جو احتلا م کے نتیجے میں خراب (ناپاک) ہوتے ہوں، ان کو کس طرح پاک کیا جائے؟ میں کپڑے دھونے کی مشین استعمال کرتا ہوں، مجھے ان کو تین مرتبہ دھونا ہوتا ہے ، کیا یہ درست ہے کہ میں کپڑے دھونے والی مشین میں صرف ایک دفعہ دھو لوں؟ یا کپڑے دھونے والی مشین میں کپڑے دھوتے وقت پانی میں کئی دفعہ دھو لیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ پہلے کپڑوں کے ناپاک حصہ کو دھو کر پاک کیا جائے اور اس کے بعد مشین کے ذریعے صاف کیے جائیں یا مشین میں کپڑے دھونے کے بعد تین بار پاک پانی سے دھو کر نچوڑا جائے تاکہ وہ تمام کپڑے شرعاً پاک ہوں۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر المختار: (وكذا يطهر محل نجاسة) أما عينها فلا تقبل الطهارة (مرئية) بعد جفاف كدم (بقلعها) أي: بزوال عينها وأثرها ولو بمرة أو بما فوق ثلاث في الأصح اھ(1/ 328)۔
وفی رد المحتار: والأولى في غسل الثوب النجس وضعه في الإجانة من غير ماء ثم صب الماء عليه لا وضع الماء أولا خروجا اھ(1/ 326)۔
وفی الدر المختار: أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار اھ(1/ 333)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: ولو بمرة) يعني إن زال عين النجاسة بمرة واحدة تطهر، سواء كانت تلك الغسلة الواحدة في ماء جار أو راكد كثير أو بالصب أو في إجانة، أما الثلاثة الأول فظاهر، وأما الإجانة فقد نص عليها في الدرر حيث قال: غسل المرئية عن الثوب في إجانة حتى زالت طهر. اهـ. ح. (قوله: أو بما فوق ثلاث) أي: إن لم تزل العين والأثر بالثلاث يزيد عليها إلى أن تزول ما لم يشق زوال الأثر اھ (1/ 328)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59534کی تصدیق کریں
0     1047
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات