نجاسات اور پاکی

نجس چیز کی ماہیت و حقیقت کو تبدیل کرنے کے بعد اس کا حکم

فتوی نمبر :
59535
| تاریخ :
2006-05-10
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

نجس چیز کی ماہیت و حقیقت کو تبدیل کرنے کے بعد اس کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک مسلمان ادویات کے ماہر کا مضمون دوائی کے بنانے کے بارے میں پڑھا تھا ، جس کی تیاری میں جانوروں کی چیزیں استعمال کی جاتی ہیں، اس میں ایک میگنیشیم اسٹریٹ ہے جو غیر ذبحی گائے سے حاصل ہوتا ہے یہاں امریکہ میں؟
یہ جزء صابن کی طرح ہوتا ہے اور یہ چربی یا تیل سے تیار ہوتا ہے، اس میں پوٹاش بالائی استعمال کرتےہیں اور پھر اس کی میگنیشیم ہائیڈروآکسائیڈ سے گذارتے ہیں ، یہ جزء دوائی کی گولیوں میں ایک فیصد سے زیادہ استعمال نہیں ہوتا ہے ، یہ جزء ادویات کی طرح اشکال میں موجود ہوتا ہے ، کیا یہ تبدیلئیِ ماہئیت میں آتا ہے؟ اگر نہیں تو کیا یہ دوا اس تبدیلی سے حلال ہوگی یا نہیں؟وضاحت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ جب ایک نجس چیز کی حقیقت اور ماہیت بدل جاتی ہے تو وہ پاک ہو جاتی ہے ، اسی طرح خنزیر یا کسی دوسرے مردار جانور کی چربی وغیرہ (جس سے ادویہ تیار کی جاتی ہیں) کسی کیمیاوی طریقہ کار کے ذریعہ اس کی ماہیت ہی بدل جاتی ہو جیسا کہ عموماً ایسا ہوتا ہے، تو اسی صورت میں ماہیت بدلنے سے مسلمانوں کے لۓ بھی اس کے استعمال کی گنجائش ہو جاتی ہے اور اگر کوئی تقویٰ پر عمل کر کے ایسی ادویہ کے استعمال سے بھی احتراز کرنا چاہے تو یہ بلاشبہ بہتر و افضل ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشية ابن عابدين: وعبارة المجتبى: جعل الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى. اهـ. وظاهره أن دهن الميتة كذلك لتعبيره بالنجس دون المتنجس إلا أن يقال هو خاص بالنجس؛ لأن العادة في الصابون وضع الزيت دون بقية الأدهان تأمل، ثم رأيت في شرح المنية ما يؤيد الأول حيث قال: وعليه يتفرع ما لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابونا يكون طاهرا لتبدل الحقيقة. اهـ. ثم اعلم أن العلة عند محمد هي التغير وانقلاب الحقيقة وأنه يفتى به للبلوى كما علم مما مر، ومقتضاه عدم اختصاص ذلك الحكم بالصابون، فيدخل فيه كل ما كان فيه تغير وانقلاب حقيقة وكان فيه بلوى عامة اھ(1/ 316)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59535کی تصدیق کریں
0     1449
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات