مفتی صاحب! اعضاءِ وضو کے ساتھ لگا ہوا پانی مسجد میں گرانا یعنی ہاتھ جھاڑنا اور اس میں بے احتیاطی کرنا، شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ آیا ایسا کرنے والا اس فعل کی وجہ سے گناہ گار ہوگا یا نہیں؟ ازراہِ کرم حکمِ شرعی سے آگاہ فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
اعضائے وضو کے ساتھ لگا ہوا پانی مسجد میں جھاڑنا پسندیدہ نہیں، اس لۓ اس سلسلہ میں بے احتیاطی سے احتراز چاہیۓ۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله والوضوء) لأن ماءه مستقذر طبعا فيجب تنزيه المسجد عنه، كما يجب تنزيهه عن المخاط والبلغم اھ(1/ 660)۔