نجاسات اور پاکی

اعضاءِ وضو پر لگا ہوا پانی مسجد میں جھاڑنا

فتوی نمبر :
59764
| تاریخ :
2006-04-01
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

اعضاءِ وضو پر لگا ہوا پانی مسجد میں جھاڑنا

مفتی صاحب! اعضاءِ وضو کے ساتھ لگا ہوا پانی مسجد میں گرانا یعنی ہاتھ جھاڑنا اور اس میں بے احتیاطی کرنا، شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ آیا ایسا کرنے والا اس فعل کی وجہ سے گناہ گار ہوگا یا نہیں؟ ازراہِ کرم حکمِ شرعی سے آگاہ فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اعضائے وضو کے ساتھ لگا ہوا پانی مسجد میں جھاڑنا پسندیدہ نہیں، اس لۓ اس سلسلہ میں بے احتیاطی سے احتراز چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی حاشية ابن عابدين: (قوله والوضوء) لأن ماءه مستقذر طبعا فيجب تنزيه المسجد عنه، كما يجب تنزيهه عن المخاط والبلغم اھ(1/ 660)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59764کی تصدیق کریں
1     2101
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات