نجاسات اور پاکی

مذی نکلنے کی صورت میں کپڑے دھونے کا حکم

فتوی نمبر :
5996
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

مذی نکلنے کی صورت میں کپڑے دھونے کا حکم

انٹرنیٹ استعمال کرنے کے دوران کوئی غلط تصویریں دیکھ لیں اور عضو مخصوص سے کچھ تری کپڑوں پر لگ جائےتو کیا اس کو دھونے کے بعد اگر نماز پڑھی جائے تو کیا نماز ہوجائے گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں، مذکورہ کپڑوں کو دھو کر پاک و صاف کرنے کے بعد ان میں نماز پڑھنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیة: (منها) الغسل يجوز تطهير النجاسة بالماء وبكل مائع طاهر يمكن إزالتها به كالخل وماء الورد ونحوه مما إذا عصر انعصر. كذا في الهداية (الیٰ قوله) وإذا غمس الرجل يده في السمن النجس أو أصاب ثوبه ثم غسل اليد أو الثوب بالماء من غير حرص اھ(1/42)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 5996کی تصدیق کریں
0     788
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات