نجاسات اور پاکی

چھوٹے بچے کا پیشاب یا پاخانہ دھونے سے وضو کے متاثر ہونے سے متعلق

فتوی نمبر :
60062
| تاریخ :
2022-11-03
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

چھوٹے بچے کا پیشاب یا پاخانہ دھونے سے وضو کے متاثر ہونے سے متعلق

چھوٹے بچے کا پیشاب یا پاخانہ دھونے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ چھوٹے بچے خود طہارت حاصل نہیں کر سکتے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

چھوٹے بچے کا پیشاب یا پاخانہ دھونے یا صاف کرنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ جو گندگی دھوتے وقت ہاتھ پر لگ جائے، اس کو صاف کرنا ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی فتاویٰ علماءِ الهند: تنظیف براز الطفل لیس بناقض الوضوء. السوال: کانت إمرأة تکاد أن تقوم للصلاة بعد التوضئ إذ تبرز طفله، فأرادت بعد تطهیرہ لأداء الصلاة، فقال لها عالم أن وضوئك قد إنتقض، فهل إنتقض وضوئها فی الحقیقة أم لا؟
الجواب: تنظیف براز الطفل لا ینقض وتصح الصلاة بهذا الوضوء بلا کراهة.
و قال فی الحاشیۃ تحت قوله (لاینقض) ان الطهارة ترتفع بضدها، وهی النجاسة والقائمة بالخارج لأن الضد هو المؤثر فی رفع ضده اھ (۱/۱۲۴)،لا ینتقض الوضوء بمس نجس أو براز أو بول أو خنزیر أو قطة، إلا لو أصابت النجاسة یده فلیغسلها اھ ( ۱/ ۵۱۸)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60062کی تصدیق کریں
0     1174
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات