کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ" سبی" شہر سے دور ، آٹھ کلو میٹر کے فاصلہ پر قریہ" لنڈی" واقع ہے اس کے جوار میں دو اور قریے ہیں، جن کی مجموعی آبادی تین ہزار تک ہے اور تینوں قریوں کا نام ایک ہے، ان کا ’’آپس میں فاصلہ بہت کم ہے‘‘ دو کے درمیان قبرستان کا فاصلہ ہے اور تیسرے کا فاصلہ ایک سیلابی نالہ ہے، ان میں عام استعمال کی تقریباً بیس دکانیں ہیں، جن میں ضروریاتِ زندگی کے تمام سہولتیں مہیا ہیں۔
اور اس کے علاوہ سات مساجد ہیں، سب سے بڑی مسجد میں بالغ مرد نہیں سما سکتے ہیں، اس کے علاوہ قریہ میں تین پرائمری بوائز سکول ، ایک مڈل اور ایک گرلز پرائمری سکول بھی موجود ہے اور دینی تعلیم کے لیے تین چھوٹے مکتب بھی ہیں، اسی طرح قریہ میں واٹر سپلائی، بجلی، ٹیلی فون اور ایک ہسپتال بھی موجود ہیں ،کیا یہ لوگ جمعہ پڑھ کر ظہر اپنی ذمہ سے ساقط کر سکتے ہیں؟ اور کیا اس کے لیے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لینا کافی ہوگا؟ وضاحت فرما دیں۔
نوٹ: یہ فاصلہ بقول مستفتی کے تقریبا سائٹ سے شیرشاہ تک کا ہے۔
اصل یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں اور شہر و قصبات میں صحیح ہے ، قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں دکانیں چالیس ، پچاس متصل ہوں ، اور بازار روزانہ لگتا ہو ، اور بازار میں ضروریات روزمرّہ کی ملتی ہوں ، مثلاً جوتہ کی دوکان، کپڑے کی، عطّارکی، بزّاز کی بھی، غلہ کی بھی، اور دودھ کی بھی اور وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو ، معمار ومستری بھی ہوں، وغیرہ وغیرہ اور وہاں ڈاک خانہ بھی ہو اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو اور اس میں مختلف محلے مختلف نا موں سے موسوم ہوں ، پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہونگی وہاں جمعہ صحیح ہوگا ورنہ صحیح نہ ہوگا۔ (ماخوذ از امداد الأحکام: ۱/۷۵۶)
اب اگر مذکور گاؤں واقعۃً بھی ایک ہی نام سے موسوم اور اس کے الگ الگ محلّے ہوں تو قریہ کبیرہ ہونے کی وجہ سے مذکور گاؤں میں جمعہ جائز ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك و أسواق و لها رساتيق و فيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته و علمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث و هذا هو الأصح اهـ(2/ 137)۔