نجاسات اور پاکی

کیا احتلام کے بعد کپڑے تبدیل کرنا یا پوری شلوار کو دھونا لازم ہے؟

فتوی نمبر :
61542
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کیا احتلام کے بعد کپڑے تبدیل کرنا یا پوری شلوار کو دھونا لازم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین کہ نیند میں احتلام ہوا، اور اُٹھ کر غسل کیا اور جس شلوار میں ناپاکی لگی اس شلوار کا وہ حصہ جہاں ناپاکی لگی اُسے دھوکر نماز پڑھ لی مکمل شلوار نہیں دھوئی، شلوار پاک ہوئی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مکمل شلوار دھونا شرعاً ضروری نہیں، بلکہ صرف ناپاک حصہ دھونا کافی ہے، نیز ایسے کپڑوں کو پاک کرنے کے بعد اس میں نماز کی ادائیگی بھی شرعاً درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: یجوز دفع نجاسة حقیقیة عن محلها ولو إناء أو ماکولا علم محلها أولا بماء ولو مستعملا وبکل ماء طاهر قالع للنجاسة ینعصر بالعصر خل وماء ورد حتی الریق، بخلاف نحو لبن کزیت لأنه غیر قالع. (۱/ ۳۰۹)
وفیه ایضًا: ویطهر نی أی محله یابس بفرك ولا یضر بقاء اثره. (۱/ ۳۱۲)
وفی الهندیة: یجوز تطهیر النجاسة بالماء وبکل مائع طاهر یمکن ازالتها به کالخل وماء الورد ونحوه وازالتها ان کانت مرئیة بازالة عینها واثرها ان کانت شیئًا یزول أثره ولا یعتبر فیه العدد، وإن کانت غیر مرئیة یغسلها ثلاث مرات ویشترط العصر فی کل مرة فیما ینعصر ویبالغ فی المرة الثالثة ویعتبر فی کل شخص قوته (۱/ ۴۱)
وفیه ایضًا: المنی إذا اصاب الثوب فإن کان رطبا یجب غسله وإن جف علی الثوب أجزأه فیه الفرق استحسانا. (۱/ ۴۴) واللہ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 61542کی تصدیق کریں
0     350
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات