نجاسات اور پاکی

ناپاک کپڑے دیگر پاک کپڑوں کے ساتھ واشنگ مشین میں دھونا

فتوی نمبر :
61577
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ناپاک کپڑے دیگر پاک کپڑوں کے ساتھ واشنگ مشین میں دھونا

اگر کسی عورت کی شلوار پر لکوریا کی نجاست لگی ہوئی ہو اور وہ شلوار کے اس حصے کو دھو دے اور اس کے بعد اس شلوار کو باقی کپڑوں کے ساتھ واشنگ مشین میں دھو لے اور کپڑوں کو جاری پانی میں نہ دھویا گیا ہو تو جب کپڑے سوکھے تو دیکھا کہ شلوار پر ابھی بھی تھوڑی سی لکوریا کی نجاست موجود ہے تو کیا ایسی صورت میں اس شلوار کے ساتھ دھلے ہوئے تمام کپڑے اور واشنگ مشین دوبارہ سارے کے سارے ناپاک ہو جائیں گے اور واشنگ مشین کے ناپاک ہونے کی وجہ سے اس کے بعد جو کپڑے دھلے اس مشین میں کیا وہ بھی سب ناپاک ہوں گے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر شلوار کے اس مقام کو جہاں لکوریا کا پانی لگا ہوا تھا، اس قدر دھولیا تھا کہ جس سے ناپاکی کے زائل اور ختم ہونے کا یقین یا غالب گمان ہوچکا ہو تو ایسی صورت میں اگرچہ شلوار پر لکوریا کے نشانات باقی ہوں، تب بھی وہ شلوار پاک شمار ہوگی، لہٰذا پاک ہونے کے بعد مذکورہ شلوار دیگر کپڑوں کے ساتھ مشین میں دھلنے کی وجہ سے باقی کپڑے ناپاک نہ ہوں گے، اس لیے بلا وجہ شکوک وشبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: (وکذا یطهر محل نجاسة) أما عینها فلا تقبل الطهارة (مرئیة) بعد جفاف دکم (بقلعها) أی بزوال عینها وأثرها ولو بمرة أو بما فوق ثلاث فی الاصح اھ (۱/ ۳۲۸)
وفی الشامیة: (قوله ولو بمرة) یعنی إن زال عین النجاسة بمرة واحدة تطهر، سواء کانت تلك الغسلة الواحدة فی ما۴ جار أو راکد کثیر أو بالصب أو فی إجانة أما الثلاثة الاول فظاهر، وأما الإجانة فقد نص علیها فی الدرر حیث قال: غسل المرئیة عن الثوب فی إجانة حتی زالت طهر اھ (۱/ ۳۲۸)
وفیه ایضًا: (قوله بنجس) بکسر الجیم أی متنجس اذ لو کان بعین النجاسة کالدم وجب زوال عینه وطعمه وریحه ولا یضر بقاء لونه کما هو ظاهر من مسئلة المیتة اھ (۱/ ۳۲۹) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 61577کی تصدیق کریں
0     326
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات