نجاسات اور پاکی

ناپاک گیلی چپلوں کے ساتھ قالین پر چلنے سے قالین کی پاکی ناپاکی کا مسئلہ

فتوی نمبر :
64892
| تاریخ :
2023-05-28
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ناپاک گیلی چپلوں کے ساتھ قالین پر چلنے سے قالین کی پاکی ناپاکی کا مسئلہ

میں جانتا ہوں کہ میرے بیت الخلاء کا فرش پیشاپ کی وجہ سے ناپاک ہے , لیکن میں اس پر گیلے جو توں کیساتھ چلا اور میں انہی جوتوں کیساتھ جو ابھی تک گیلے تھے , قالین پر چلا تو کیا یہ قالین کو ناپاک بنادینگے ؟ اگر ہاں تومیں اسے پاک کیسے کروں ؟ اور اگر کوئی اور اس قالین پر گیلے جوتوں کیساتھ چلے تو کیا انکے پاؤں بھی ناپاک ہوجائیں گے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بیت الخلاء کے فرش پر اگر ناپاکی کے آثار موجود ہوں یا اس کے ناپاک ہونے کا یقین ہو تو اس میں استعمال ہونے والے ناپاک گیلے جوتے پہن کر کارپٹ پر چلنے کی صورت میں کارپٹ کا اتنا حصہ ناپاک ہوجائیگا جس پر ناپاک گیلے جوتے رکھے گئے ہیں ،اور اسے پاک کرنے کےلئےاس جگہ کو تین مرتبہ اس طرح دھونا ضروری ہو گا کہ ہر مرتبہ دھونے کے بعد پانی کے قطرات ٹپکنا بند ہوجائیں جبکہ اسے دھوئے بغیر اگر کارپٹ اس طرح خشک ہوجائے کہ اس پر ناپاکی کے آثار نظرنہ آئیں ،تو محض گیلے پاؤں رکھنے سے پاؤں ناپاک نہ ہوں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدرالمختار : مشى في حمام و نحوه لا ينجس ما لم يعلم أنه غسالة نجس .(1/350)-
و فی ردالمحتار : (قوله : مشى في حمام و نحوه) أي : كما لو مشى على ألواح مشرعة بعد مشي من برجله قذر لا يحكم بنجاسة رجله ما لم يعلم أنه وضع رجله على موضعه للضرورة فتح . و فيه عن التنجيس: مشى في طين أو أصابه و لم يغسله و صلى تجزيه ما لم يكن فيه أثر النجاسة ؛ لأنه المانع إلا أن يحتاط ، و أما في الحكم فلا يجب . (1/350)-
و فی الھندیۃ : إن غسل ثلاثا فعصر في كل مرة ثم تقاطرت منه قطرة فأصابت شيئا إن عصره في المرة الثالثة و بالغ فيه بحيث لو عصره لا يسيل منه الماء فالثوب و اليد و ما تقاطر طاهر و إلا فالكل نجس . هكذا في المحيط .و ما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات و التجفيف في كل مرة ؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة و حد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر و لا يشترط فيه اليبس . هكذا في التبيين هذا إذا تشربت النجاسة كثيرا و إن لم تتشرب فيه أو تشربت قليلا يطهر بالغسل ثلاثا . هكذا في محيط السرخسي .(1/42)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
احمداللہ مولاداد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 64892کی تصدیق کریں
0     1044
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات