نجاسات اور پاکی

پاکی ناپاکی کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
65368
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پاکی ناپاکی کی ایک صورت کا حکم

میرا یہ سوال ہے کہ ایک بڑی عمر کے شخص ہیں، انہیں پیشاب پاخانہ کی شکایت ہے، وہ زیادہ چلتے پھرتے نہیں ہیں، صرف پاخانہ پیشاب کے لئے اپنے بستر سے اٹھتے ہیں، پھر فارغ ہو کر واپس اپنے بستر پر ہی بیٹھ جاتے ہیں اور بیت الخلاء ان کے کمرے سے کافی دور ہے، بیت الخلاء تک جانے سے پہلے ہی پیشاب پاخانہ نکل جاتا ہےاور جتنا فاصلہ ہے کمرے اور بیت الخلاء میں، وہ سب جگہ ناپاک ہو جاتی ہے اور ایسا دن میں بہت بار ہوتا ہے اور رات میں بھی ان کا پیشاب پاخانہ نکل جاتا ہے اور وہ کسی کو بتاتے نہیں ہیں ، کبھی کوئی گھر کا فرد دیکھتا ہے تو وہ صاف کر لیتا ہے ، ورنہ یا تو سوکھ جاتا ہے یا پھر وہ خود ایک سوکھے کپڑے سے ایک بار صاف کر کے چھوڑ دیتے ہیں اور وہ ڈائیپر وغیرہ باندھنے بھی نہیں دیتے ، تو اس صورت میں باقی گھر کے افراد اپنی پاکی و ناپاکی کا خیال کیسے رکھیں؟ اور گھر میں بیت الخلاء ایک ہونے کی وجہ سے نماز کیسے ادا کریں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور شخص اگر ضعف اور کمزوری وغیرہ کسی وجہ سے پیشاب و پاخانہ پر کنٹرول نہ رکھ سکتا ہو ، جس کی وجہ سے گھر ناپاک ہو جاتا ہو تو ایسی صورت میں اس کے اہل خانہ کو چاہیئے کہ اگر ممکن ہو تو اس کے لئے بیت الخلاء کے قریب کسی اور جگہ کا انتظام کریں تاکہ پورا گھر ناپاک نہ ہو اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو بیت الخلاء تک آنے جانے کے راستے میں موٹا کپڑا ، پلاسٹک وغیرہ بچھایا جائے ، تاکہ ناپاک ہو جانے کی صورت میں فقط اس کپڑے وغیرہ کو پاک کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تعالى : إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة : 222 / الآية)۔
و في صحيح مسلم : عن أبي مالك الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الطھور شطر الایمان (1/203)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65368کی تصدیق کریں
0     899
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات