نجاسات اور پاکی

ناپاکی کے وہم کاحکم

فتوی نمبر :
66896
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ناپاکی کے وہم کاحکم

مجھے نفسیاتی مرض کا مسئلہ ہے،جس میں پاکی ناپاکی کا وہم رہتا ہے،اس بیماری کا نام (OCD) ہے،مجھے مذی کے بارے میں پوچھنا تھا ، کیا بلاوجہ بار بار ایسا لگنا کہ آپ کا مذی خارج ہورہا ہے، اس کی وجہ سے باربار کپڑوں کو دھونا پڑے , بار بار وضو کرنا پڑے ، اس سے پریشان آگئی ہوں اور مرض میں اضافہ ہونے کا خطرہ ہے، برائے مہربانی اس مسئلے کا کوئی حل بتائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِِ مسئولہ میں جب تک ناپاکی (مذی وغیرہ) کے نکلنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تو محض شک سے سائلہ کا وضو نہیں ٹوٹے گا،لہذا بلاوجہ شکوک و شبہات میں پڑنے سے اجتناب کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی ردالمحتار : فعلم بهذا أن المذهب اعتبار غلبة الظن و أنها مقدرة بالثلاث لحصولها به في الغالب و قطعا للوسوسة و أنه من إقامة السبب الظاهر مقام المسبب الذي في الاطلاع على حقيقته عسر كالسفر مقام المشقة اهـ(1/331)-
و فی شرح الاشباہ و النظائر : اليقين لا يزول بالشك(الی قولہ) و من ضرورة صيرورته مشكوكا فيه ارتفاع اليقين عن تنجسه و معصوميته و إذا صار مشكوكا في نجاسته جازت الصلاة معه اھ(1/195)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیمان عظیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66896کی تصدیق کریں
1     1428
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات