نجاسات اور پاکی

بچے کی قے اور دیگر نجاسات سے بدن کو پاک کرنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
67764
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بچے کی قے اور دیگر نجاسات سے بدن کو پاک کرنے کا طریقہ

بدن پر لگی ناپاکی کیسے پاک کریں؟ بچے کی قے وغیرہ لگی ہوئی ناپاک جگہ پر پانی کا بہانا ضروری ہے یا گیلے کپڑے سے تین مرتبہ بدن کو پونچھنے سے پاک ہو جائےگا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بچے کی قے اگر منہ بھر کر ہو ، تو بڑوں کی قے کی طرح وہ بھی ناپاک ہے، جبکہ جسم پر لگی ہوئی نجاست کو پاک کرنے کے لۓ محض گیلے کپڑے سے اسے پونچھنا کافی نہیں ، بلکہ اسے باقاعدہ تین دفعہ دھونا ضروری ہے، ورنہ جسم کا وہ حصہ پاک نہ ہوگا ، اور اسے پاک کیے بغیر نماز بھی درست نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار :(و) يطهر محل (غيرها) أي : غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفاً و إلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد ، به يفتى. (و قدر) ذلك لموسوس (بغسل و عصر ثلاثاً) أو سبعاً (فيما ينعصر) مبالغاً بحيث لايقطر(الی قولہ)و هذا كله إذا غسل في إجانة ، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثيرا ، أو جرى عليه الماء طهر مطلقاً بلا شرط عصر و تجفيف و تكرار غمس ، هو المختار. اھ(1/ 331)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67764کی تصدیق کریں
0     1906
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات