میرا سوال یہ ہے کہ میرے گھر میں گٹر ہے جس میں سے اکثر کچھ پانی آتا رہتا ہے،گزشتہ دنوں میں کچھ پانی آیا اور گھر میں کچھ لوگوں نے لاپرواہی کی اور اس پانی پر سے چل کر پورے گھر میں جوتے لے گئے ، اب ان جگہوں پر نماز بھی پڑھتے ہیں اور ننگے پاؤں بھی اکثر چلتے ہیں ، میں بہت ڈپریشن میں ہوں ،کیونکہ میرے گھر والے پاکی ناپاکی کازیادہ اہتمام نہیں کرتے ، واش روم والی گیلی چپلیں پورے گھر میں لے جاتے ہیں ،گٹر کا پانی صاف کرنے کاطریقہ بتاتا ہوں تین دفعہ دھونے والا تو اس میں پونچھے کو دھوتے وقت بہت زیادہ چھینٹے اڑاتے ہیں ،اور بھی پاکی کے مسائل میں لاپرواہی کرتے ہیں ، میں بہت زیادہ پریشان ہوں کہ میری ساری عبادات ضائع ہورہی ہیں ،میں کیسے سمجھاؤں انہیں ؟ میری بات نہیں مانتے ، کیا میری عبادتیں قبول ہوں گی ؟ براہِ مہربانی مجھے تفصیل سے سمجھادیں ۔
گٹر یا واش روم کے ناپاک پانی سے گیلے چپل گھر کے اس حصے میں لیجانا جہاں عموماً ننگے پاؤں چلناپھرنا ہوتا ہو مناسب نہیں ، ورنہ اس جگہ کو پاک کیے بغیر گیلے پاؤں رکھنے کی صورت میں پیر ناپاک ہوسکتے ہیں ،تاہم اگر وہ فرش پختہ ہواور اسے باقاعدہ گیلے کپڑے وغیرہ سے پونچھ کر پاک کردیا جائے ، تو ایسی صورت میں وہاں بغیر چپل کے جانے کی صورت میں پاؤں ناپاک نہ ہونگے ، اور نہ ہی وہاں مصلی بچھاکر نماز پڑھنے میں کوئی حرج ہے ، بلکہ نماز بلاشبہ اداہوجائیگی ، اس لئے اس سلسلہ میں زیادہ شکوک وشبہات کا شکار ہونا درست نہیں ۔
کمافی الدرالمختار:( و ) تطھر ( ارض ) بخلاف نحو بساط ( بیبسھا ) ای : جفافھا ولو بریح ( وذھاب اثرھا کلون ) وریح ( ل ) اجل ( صلاۃ ) علیھا الخ ( ج 1 صـ 311 ) ۔
وفی ردالمحتار تحت ( قولہ : بیبسھا ) لما فی سنن ابی داود باب طھور الارض اذا یبست وساق بسندہ عن ابن عمر قال:"کنت ابیت فی المسجد فی عھد رسول اللہ ﷺ وکنت شاباعزبا، وکانت الکلاب تبول وتقبل وتدبر فی المسجد ولم یکونوا یرشون شیامن ذلک " ولو ارید تطھیرھا عاجلا یصب علیھا الماء ثلاث مرات وتجفف کل مرۃ بخرقۃ طاھرۃ وکذا لو صب علیھا الماء بکثرۃ حتی لایظھر اثر النجاسۃ الخ ( ج 1 صـ 311 کتاب الطھارۃ باب الانجاس ط : ایچ ایم سعید ) ۔