السلام علیکم مفتی صاحب ! گھر کی خاتون واش روم کے واش بیسن میں چھوٹے بچوں کی پیشاب پوٹی دھوتے ہیں ، ان کو کہا جاتا ہے کہ دھونے کے بعد واش بیسن صاف کر دیں ، بعد میں واش بیسن کے سائیڈوں پر پانی کی چھینٹے پڑی ہوتی ہیں ، کیا وضو کرتے ہوئے اگر ہمارے کپڑوں پر واش بیسن کے چھینٹے پڑیں یا سائیڈ وں پر پہلے سے لگے ہوئے چھینٹوں سے کپڑے لگ جائیں تو کپڑے ناپاک ہو جائیں گے ؟ جزاک اللہ خیر
بیت الخلاء کے واش بیسن میں چھوٹے بچوں کا پیشاب ، پاخانہ دھونے کے بعد اگر واش بیسن اور نجاست پر پانی بہا کر اسے پاک و صاف کر دیا جائے تو وضو کرتے وقت کپڑوں پر چھینٹے پڑنے یا اس کے ساتھ کپڑے لگنے کی صورت میں کپڑے ناپاک نہ ہونگے ، اور ان کپڑوں میں پڑھی ہوئی نمازیں بھی شرعاً درست ادا ہوں گی ۔
كما في الدر المختار : نام أو مشى على نجاسة، إن ظهر عينها تنجس، وإلا لا. ولو وقعت في نهر فأصاب ثوبه، إن ظهر أثرها تنجس، وإلا لا. لف طاهر في نجس بمتل بماء إن بحيث لو عصر قطر تنجس وإلا لا. ولو لف في مبتل بنحو بول، إن ظهر نداوته أو أثره تنجس وإلا لا الخ ( فصل الاستنجاء، ج 1، ص 346، ط: سعيد)-
و في رد المحتار : تحت ( قوله مشى في حمام و نحوه ) أي كما لو مشى على ألواح مشرعة بعد مشي من برجله قذر لا يحكم بنجاسة رجله ما لم يعلم أنه وضع رجله على موضعه للضرورة. فتح. وفيه عن التنجيس: - مشى في طين أو أصابة ولم يغسله وصلى تجزيه ما لم يكن فيه أثر النجاسة لانه المانع إلا أن يحتاط الخ (مطلب القول المرجع على الفعل، ج 1، ص 35، ط: سعيد ) -واللہ اعلم