مسجد میں موٹے صف پر شام کوبچے سے چھوٹا پیشاپ نکل گیا،بچہ بھاگ کر نکل گیا،مولوی صاحب اور خادم نے کہا آپ چھوڑ دیں ،خادم خود صاف کر لے گا، سائل عشاء کو مسجد گیا کوئی دھلائی کا نشا ن نہ پایا ، ہو سکتا ہے خادم نے مولوی صاحب کی راہنمائی میں کسی طریقے سےان کو صاف کیا ہو، سائل کو شک ہے کہ بچہ جہاں جہاں گیا ہے وہ جگہ پلید ہوگی،6 مہینوں سے مسجد نہیں جارہا، کیونکہ دل میں شک ہےکہ کہیں صف اسی طرح پلید نہ ہو،نمازی ساتھی بار بار پوچھتے ہیں، گھر آتے ہیں، کہتے ہیں، مسجد کیوں نہیں آتے ؟ سائل بتانے سے خجلت محسوس کرتا ہے، جماعتیں چھوٹ رہی ہے،نہ جانے کا دل میں دکھ ہے ، اس سے پہلے بھی سائل نے سارے مسجد کی چٹائیاں صفیں ایک دفع چھپکے سےدھوئی ہوئیں ہیں، راہنمائی فرمایں تاکہ سائل دوبارہ شروع ہو جائے،جزاک اللہ خیر۔
بچے نے جس قالین اور چٹائی وغیرہ پر پیشاب کیا ہے ، اگر امامِ مسجد نے خادم کے ذریعہ اس کے پاک صاف کرنے کی یقین دہانی کرائی ہو، تو اب سائل کے لئے شکوک و شبہات میں مبتلا ہونا اور اس کی وجہ سے مسجد کی جماعت کو ترک کردینا قطعاً درست نہیں، لہذا سائل کو چاہئے کہ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا اہتمام کرے، تاہم آئندہ کے لئے ناسمجھ اور مسجد کی صفائی ستھرائی کا لحاظ نہ رکھنے والے بچوں کو مسجد میں لے جانے سے احتیاط کرنا چاہئیے۔
كما في بدائع الصنائع : وإن كان يعرض له ذلك كثيراً لم يلتفت إليه لأن ذلك وسوسة، والسبيل في الوسوسة قطعها لأنه لو اشتغل بذلك لادي إلى أن لا يتفرغ لاداء الصلاة وهذا لا يجوز الخ (ج ۱ ص 3۳ ، سعید)۔
وفيه ايضا : واما بيان من تجب عليه الجماعة فالجماعة انما تجب على الرجال العاقلين الاحرار القادرين عليها من غير حرج اهـ (ج 1، ص 155)۔