مفتی صاحب میں یہ سوال مذاق کی نیت سے نہیں کررہا ، میں نے ایک مسئلہ سنا کہ پاخانہ کرنے کے بعد جگہ کو پانی اور ہاتھ دونوں سے دھونا ضروری ہے ، لیکن مجھے اس مسئلہ کی معلومات نہیں تھی ، اور میں جگہ صرف شاور سے دھولیا کرتا تھا اور مجھے تسلی ہوجاتی تھی کہ جگہ صاف ہوگئی ہے ، اور میں تین سال تک اسی طرح نماز پڑھتا رہا تو اب کیا مجھے وہ ساری نمازیں دوبارہ پڑھنی ہوگی اگر دوبارہ پڑھنی ہوگی تو ان نمازوں کی کیا نیت ہوگی ؟
سائل کو شاور کے ذریعے استنجاء کرنے سے اگر پائخانے کی جگہ سے ناپاکی زائل اور دور ہوجانے کا یقین اور غالب گمان ہوجایا کرتا تھا،تو اس طرح استنجاء کرنے سے پاکی حاصل ہوچکی تھی،چنانچہ اس کے بعد استنجاء کی جگہ کو ہاتھ سے دھونا لازم اور ضروری نہیں تھا، لہذا سائل کے ذمہ گزشتہ تین سالوں کی نمازیں لوٹانے اور بلا وجہ شکوک وشبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
کما فی الدرالمختار: (وأرکانہ)أربعۃ شخص (مستنج،و)شیئ (مستجی بہ) کماء وحجر( و )نجس (خارج)من احد السبیلین وکذ لو أصابہ من خارج وان قام من موضعہ علی المعتمد (ومخرج) دبر أو قبل (بنحو حجر) مما ھو عین طاھرۃ قالعۃ لاقیمۃ لھا کمدر (منق) لانہ المقصود فیختار الابلغ والاسلم عن التلویث ولایتقید باقبال وادبار شتاءوصیفا (ولیس العدد )ثلاثا (بمسنون فیہ) بل مستحب (والغسل) بالماء الی ان یقع فی قلبہ انہ طھر مالم یکن موسوسا فیقدر بثلاث کما مر (بعدہ) أی الحجر (بلا کشف عورۃ) عند احد،اما معہ فیشترکہ کما مر،فلو کشف لہ صار فاسقا لا لو کشف لاغتسال أو تغوط کما بحثہ ابن الشحنۃ (سنۃ) مطلقاً بہ یفتی سراج الخ وفی ردالمحتارتحت (قولہ سنۃمطلقا) ای فی زماننا وزمان الصحابۃ لقولہ تعالی-فیہ رجال یحبون ان یتطھروا واللہ یحب المطھرین –قیل لما نزلت قال رسول اللہ ﷺ " یا اھل قباء ان اللہ أثنی علیکم فماذا تصنعون عند الغائط؟قالوا: نتبع الغائط الأحجار ثم نتبع الاحجار الماء" فکان الجمع سنۃ علی الاطلاق فی کل زمان وھو الصحیح وعلیہ الفتوی الخ(ج1 ص337/338 کتاب الطھارۃ فصل الاستنجاء ط:سعید)۔