مفتی صاحب میں نے ایک مسئلہ سنا ہےکہ طہارت کے مسائل میں بہت زیادہ وہم نہیں کرنا چاہیئے ،لیکن میں نے ایک اور مسئلہ سنا کہ اگر آپ گیلا پاؤں لے کر ناپاک کپڑے پر رکھیں گے، تو آپ کا پاؤں ناپاک ہو جائے گا۔
مفتی صاحب !مجھے اکثر بستر میں احتلام ہو جاتا ہے اور میں جب باتھ روم سے آتا ہوں تو میری شلوار گیلی ہوتی ہے اور میں اسی حالت میں بستر پر جا کر سوتا ہوں، جس میں مجھے احتلام ہوا تھا ، مجھے لگتا ہے کہ میری شلوار ناپاک ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے جب بھی میں فجر سے پہلے اٹھتا ہوں تو اپنی شرمگاہ کو اور اپنی ٹانگوں کو ایک مرتبہ پانی سے دھو لیتا ہوں، کیا میں وہم کر رہا ہوں؟
سائل کو جس بستر پر احتلام ہوتا ہے، اگر اس بستر پر ناپاکی لگی ہوئی نہ ہو اور احتلام ہوجانے کے بعد سائل شرمگاہ اور کپڑوں کو دھو کر ناپاکی کو زائل کرلیتا ہو تو اس سے سائل کا جسم اور کپڑے پاک ہوجائیں گے، اس کے بعد محض گیلی شلوار کے ساتھ پاک بستر پر سونے کی وجہ سے سائل کے کپڑے ناپاک نہ ہوں گے، لہٰذا سائل کو بلا وجہ شکوک و شبہات میں نہ پڑنا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: ولو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر الخ
وفیہ ایضاً: (قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن الخ ( کتاب الطہارۃ ج 1 ص 151 ط: سعید )۔
وفی بدائع الصنائع: والمراد من قوله أول ما شك أن الشك في مثله لم يصر عادة له؛ لا أنه لم يبتل به قط، وإن كان يعرض له ذلك كثيرا لم يلتفت إليه، لأن ذلك وسوسة الخ ( کتاب الطھارۃ ج 1 ص 33 ط: سعید )۔