نجاسات اور پاکی

خروجِ ریح کے مریض کے لئے طہارت کا حکم

فتوی نمبر :
72556
| تاریخ :
2024-04-17
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

خروجِ ریح کے مریض کے لئے طہارت کا حکم

لمبے سوال کے لیے معذرت، لیکن اس کے بغیر میں بات واضح نہیں کر پارہی تھی،میں یونیورسٹی کی طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ مدرسہ میں درجہ عالیہ کی طالبہ ہوں،دینی احکام کی سمجھ بھی رکھتی ہوں،لیکن ایک ایسے مسئلے کا شکار ہوں جس کا کوئی حل نظر نہیں آرہا،دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے،مجھے گیس کا بہت زیادہ مسئلہ ہے،شہر کے سارے ڈاکٹرز کو دکھا چکی ہوں،ہر طرح کا ٹوٹکہ آزما چکی ہوں،حاجت کے نفل پڑھ کے دعائیں بھی مانگتی ہوں،لیکن مسئلہ ٹھیک نہیں ہورہا ،بلکہ بڑھتا ہے،اتنا زیاد ہ وضو ٹوٹتا ہے کہ اکثر نماز کا پورا وقت ہی وضو کرکر کے نماز پڑھنے میں گزرجاتا ہے،کوئی اور کام نہیں کر پاتی،لیکن مجھے پھر بھی نماز کے پورے وقت میں اتنا ٹائم مل جاتا ہےکہ میں وضو سے نماز پڑھ سکتی ہوں،یعنی میں شرعی معذور نہیں ہوں،لیکن میرے ساتھ کافی مرتبہ ایسے ہوچکا ہے کہ میں شرعی معذور میں داخل ہوجاتی ہوں،مثلاً فجر کے پورے وقت میں ہر ہر منٹ بعد وضو ٹوٹتا ہے،پورا وقت گزرجاتاہے،تو میں شرعی معذور میں داخل ہوگئی،اور پھر میں ہر نماز کے لیے ایک ہی دفعہ وضو کر کے نماز پڑھنے لگی،لیکن اسی دن ظہر اور عصر کے درمیان کا سارا وقت گزر گیا اور میرا وضو ایک بار بھی نہیں ٹوٹا،تو اس طرح میں شرعی معذور کی فہرست سے باہر آگئی،لیکن اس کے بعد مغرب سے پھر ویسے ہی وضو ٹوٹنے لگ گیا،لیکن وہ پھر اتنا زیادہ نہیں ٹوٹتا کہ میں پورے وقت میں نماز ہی نہ پڑھ پاؤں،مطلب مجھے دوبارہ سے ویسے ہی پھر سے بار بار وضو کرنا پڑتا ہے،اس طرح بھی ہوتا ہے کہ میں نے عصر کی نماز کے لئے وضو کیا،جائے نماز پر آتے آتے ٹوٹ گیا،5،4 مرتبہ ایسے ہی ہوا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ میرا وضو ٹھہرے گا نہیں،تو میں نے سوچا کہ ایک ہی وضو سے نماز پڑھ لیتی ہوں،ایسا نہ ہو کہ عصر کا وقت ہی نکل جائے،اور میں نے نماز پڑھ لی چاہےوضو بیچ میں ٹوٹ بھی گیا،پھر جب عصر کی نماز کا وقت ختم ہونے لگا تو چونکہ دل میں بے سکونی تھی،کہ میرا نماز کے دوران وضو ٹوٹ گیاتھا،پھر بھی میں نے نماز پڑھ لی تھی،پتہ نہیں نماز ہوئی بھی ہوگی یا نہیں،تو سوچا ایک دفعہ دوبارہ وضو کرکے دیکھتی ہوں،نماز کے آخری وقت میں دوبارہ وضو کیا،اوروضو سے ہی نماز پڑھ لی،مطلب وضو نہیں ٹوٹا،اب اس طرح میں شرعی معذور تو نہ بنی،لیکن میرا تقریباً سارا وقت ہی نمازپڑھنے میں گزرگیا،یہ میں نے آپ کو ایک صورت بتائی ہے اسی طرح ہوتا ہےاکثر ،کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ظہر سے مغرب تک وضو اتنا نہیں ٹوٹتا، لیکن عشاء کے بعد سے پھر بہت زیادہ ٹوٹنے لگ جاتا ہے،اس مسئلے کی وجہ سے میری زندگی ہر طرح سے بہت متاثر ہوئی ہے،میں ہمیشہ سے پوزیشن ہولڈر تھی،اب اس مسئلے کی وجہ سے پڑھائی میں بہت پیچھے چلی گئی ہوں،ہر وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہتی ہوں،بہت سے کام رہ جاتے ہیں،اللہ پر توکل ہے،لیکن کبھی کبھی ذہنی دباؤ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ڈپریشن میں چلی جاتی ہوں،میں تفسیر پڑھاتی ہوں،لوگوں سے ملنا جلنا بہت زیادہ ہے،لیکن اس ذہنی پریشانی کی وجہ سے کسی سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا،میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ رہنمائی فرمادیں کہ شریعت ایسے شخص کے بارے میں کیا کہتی ہےجو شرعی معذور نہ ہو،لیکن اس کی زندگی ہر طرح سے متاثر ہورہی ہو،میں غیر شادی شدہ ہوں،اور مجھے یہی لگتا ہے کہ اس مسئلے کے ساتھ میں انتہائی ذہنی دباؤ میں رہتے ہوئے میں شادی شدہ زندگی بھی نہیں گزارسکوں گی،براہِ ِمہربانی رہنمائی فرمادیں؟نیز یہ بھی بتادیں کہ قرآن پاک کو ہاتھ لگانے کا کیا حکم ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

معذور اور غیر معذور کی تفصیلات اور اس کے نماز پڑھنے کا طریقہ کار بھی شرعاً وہی ہے جو سائلہ نے بیان کیا ہے،جس میں مخصوص کیفیت اور حالات کی وجہ سے مزید رعایت دینے کی گنجائش تو نہیں،تاہم سائلہ کو چاہئیے کہ کسی بھی مستند اور ماہر دیندار طبیب سے علاج معالجہ کی کوشش کرے اور ساتھ اللہ تعالی سے اس آزمائش سے بچنے اور نکلنے کی دعا بھی کرتی رہے،ان شاء اللہ تعالیٰ اس سے فائدہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)
بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل الخ(ج1 ص305 کتاب الطہارۃ ط: سعید)۔
وفی رد المحتار تحت (قوله: وصاحب عذر) خبر مقدم، وقوله: من به سلس بول مبتدأ مؤخر؛ لأنه معرفة والأول نكرة فافهم. قال في النهر: قيل السلس بفتح اللام نفس الخارج، وبكسرها من به هذا المرض (قوله: لا يمكنه إمساكه) أما إذا أمكنه خرج عن كونه صاحب عذر كما يأتي ط. (قوله: أو استطلاق بطن) أي: جريان ما فيه من الغائط (قوله: أو انفلات ريح) هو من لا يملك جمع مقعدته لاسترخاء فيها نهر (قوله: أو بعينه رمد) أي: ويسيل منه الدمع، ولم يقيد بذلك؛ لأنه الغالب (قوله: أو عمش) ضعف الرؤية مع سيلان الدمع في أكثر الأوقات ح عن القاموس.(قوله: أو غرب) قال المطرزي: هو عرق في مجرى الدمع يسقي فلا ينقطع مثل الباسور وعن الأصمعي: بعينه غرب إذا كانت تسيل ولا تنقطع دموعها. والغرب بالتحريك: ورم في المآقي اهـ فافهم الخ(ج1 ص305 کتاب الطہارۃ ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72556کی تصدیق کریں
0     880
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات