السلام علیکم، جناب!
عرض یہ ہے کہ میرا 2021 دسمبر کو prosted کا آپریشن ہوا، جس کے بعد سے پیشاب میں رساؤ کی شکایت پیدا ہوگئی ہے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے پیشاب خارج ہوتا رہتا ہے، پہلے ڈائپر پہنتا تھا وہ مہنگا پڑ رہا تھا، جس کے بعد انڈروئیر پہن کر قرآن اور نماز پڑھنا شروع کیا، انڈروئیر سے بھی پیشاب کپڑے پر لگ جاتا ہے، میں اسی طرح نماز پڑھ رہا ہوں، لیکن دل مطمئن نہیں ہوتا ہے، اس سلسلے میں آپ رہنمائی فرمائیں، مجھے کیا کرنا چاہیئے؟
سائل کو اگر مذکور بیماری کی وجہ سے پاکی کا اتنا وقت نہ ملے کہ وضو کرنے کے فوراً بعد صرف فرض نماز ادا کرسکے اور پورا وقت اس طرح گزرچکا ہو تو سائل شرعاً معذور ہے اور معذور کے لئے حکم یہ ہے کہ مثلاً ادائیگئِ ظہر کے لئے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے ، اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر سکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط فرض نمازِ ظہر ادا کرے۔ اس کے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کے لئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کر کے نمازِ عصر باجماعت ادا کر لے، اس دوران اگر پیشاب کے قطرے نکلتے بھی ہیں ، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا ، اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی وہ ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کے لئے الگ الگ وضو کر لیا کرے ، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا ، تو مذ کور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ اس دوران اگر پورا وقت نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو تو شر عاً وہ معذور نہیں رہے گا ، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے، جبکہ کسی مجبوری کی وجہ سے کپڑوں کا متأثرہ حصہ بھی ہر نماز کے وقت دھونا ممکن نہ ہو ، تو اس مشکل سے بچنے کے لئے سائل یہ طریقہ اختیار کرسکتا ہے کہ انڈرویئر میں ٹشوپیپر وغیرہ رکھ لیا کرے اور ہر نماز کے وقت اسے اتار کر ، استنجاء کر کے دوبارہ صاف ٹشو پیپر وغیرہ رکھا کرے۔
کما فی الشامیۃ : "(و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب ، و كذا كل ما يخرج بوجع و لو من أذن و ثدي و سرة ، (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ و يصلي فيه خالياً عن الحدث (و لو حكماً) ؛ لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (و هذا شرط) العذر (في حق الابتداء ، و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) و لو مرةً (و في) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) ؛ لأنه الانقطاع الكامل.(و حكمه الوضوء) لا غسل ثوبه و نحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في ﴿لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ﴾ [الإسراء: 78] (ثم يصلي) به (فيه فرضاً و نفلاً) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل)". اھ (1/ 305، کتاب الطہارۃ، مطلب فی احکام المعذور، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: مريض تحته ثياب نجسة إن كان بحال لا يبسط شيء إلا ويتنجس من ساعته يصلي على حاله وكذا إذا لم يتنجس الثاني لكن يلحقه زيادة مشقة بالتحويل، كذا في فتاوى قاضي خان.اھ (ج۱، ص۱۳۷، باب فی صلوۃ المریض، ط۔ماجدیہ)۔