یہ ناپاک چھینٹیں لگنے کا مسئلہ سمجھ نہیں آتا، یعنی اِس کا کوئی واضح سا حکم تو بتا دیجیے تاکہ آسانی سے اُس پر عمل کر سکوں۔
اگر دونوں ہاتھ ناپاک ہوجائیں تو نل کو کیسے کھولیں ؟ وہ گیلا ہوتا ہے، تو ہم ہاتھ لگاینگے تو وہ ناپاک ہوجائے گا، پھر اسٹول پر بیٹھ کر ناپاک ہاتھ دھوتے ہوئے چھینٹیں پڑتی ہیں ، کیا وہ ناپاک ہے ؟ یعنی پانی نل سے ہوتا ہوا، پھر ہاتھ سے ہوتا ہوا سخت فرش پر پڑتا ہے، پھر وہاں سے بدن اور کپڑوں پر لگتا ہے، ناپاک پاؤں کا بھی یہی مسئلہ ہے، ایک پیر پر پانی گرتا ہے تو دوسرے پیر پر چھینٹیں پڑتی ہیں ۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ناپاکی سے کون سی ناپاکی مراد ہے؟ جسم پر لگی ہوئی ظاہری ناپاکی مراد ہے یا حکمی(جنابت) ، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر اس سے مراد حکمی ناپاکی ( جنابت وغیرہ) ہو اور ہاتھ پاؤں پر کوئی ظاہری ناپاکی لگی ہوئی نہ ہو تو ایسی صورت میں اس ہاتھ سے پانی کھولنے کی وجہ سے نل ناپاک نہ ہوگا اور اگر اس سے مراد ظاہری نجاست ہو تو نل کھولتے وقت اس پر نجاست کے آثار لگ جانے سے وہ نل ناپاک ہوجائے گا، لیکن باقی وضو اور غسل وغیرہ کرنے سے قبل اسے بھی ایک مرتبہ صاف کرلیا جائے، تاکہ ناپاکی کے آثار پانی کے ساتھ شامل ہو کر باقی پانی ناپاک نہ کرے، جبکہ اس کے بعد وضو غسل کرتے وقت اگر کسی چوکی وغیرہ میں بیٹھ کر اسے مکمل صاف کرلیا جائے تو اس میں جسم پر ناپاک چھینٹیں لگنے سے حفاظت ہوسکتی ہے اور اس احتیاط کے بعد مزید شکوک و شبہات میں مبتلا ہونا اور اس وہم کو مزید تقویت دینا درست نہیں، بلکہ اسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ، تاکہ وسوسے کی بیماری کا سد باب ہوسکے۔
کما فی الدر المختار: ولو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر الخ
وفی رد المحتار تحت: (قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن ( ج 1 ص 151 ط: سعید)۔
کما فی بدائع الصنائع: والمراد من قوله أول ما شك أن الشك في مثله لم يصر عادة له؛ لا أنه لم يبتل به قط، وإن كان يعرض له ذلك كثيرا لم يلتفت إليه، لأن ذلك وسوسة الخ ( ج 1 ص 33)۔