نجاسات اور پاکی

قطرہ آنے کی صورت میں پاکی و ناپاکی کا حکم

فتوی نمبر :
77145
| تاریخ :
2024-08-04
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

قطرہ آنے کی صورت میں پاکی و ناپاکی کا حکم

السلام علیکم ، مفتی صاحب ! کافی عرصے سے ایک مسئلہ در پیش ہے ، براہِ مہربانی حل فرما دیں ۔ مجھے کافی عرصے سے شرمگاہ سے قطرے آتے ہیں ، لیکن اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جب میری شرم گاہ گیلی ہوتی ہے تب خواہ وہ غسل کے وقت ہو یا استنجاء کے وقت ، شرم گاہ خشک ہوجائے تو کبھی نہیں نکلتے ، میں شروع میں یہی سمجھتا تھا کہ چونکہ پانی ڈالنے سے ہی آتے ہیں تو اس پر پانی ہی کا حکم ہوگا ، لیکن اب اس معاملے میں کافی پریشان ہوں، براہِ مہربانی اس مسئلے پر جواب ارسال فرمائیں کہ اس صورت میں طہارت اور وضو کا کیا حکم ہوگا ؟ اور اس سے پہلے قطرے گیلے فرش اور کپڑے پر لگ جائیں ، جس سے نہ جانے کہا کہا منتقل ہو گئے ہوں، ہر چیز پاک کرنے کی صورت میں شدید حرج کا اندیشہ ہے۔ اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو جب تک شرمگاہ سے قطرے نکلنے کا یقین یا ظن غالب نہ ہو ، اس وقت تک اس کا وضوء برقرار رہیگا ، اسی طرح جب تک قطرے کپڑے و فرش وغیرہ پر پڑنے کا یقین اور غالب گمان نہ ہو تو یہ کپڑے اور فرش ناپاک شمار نہ ہوں گے ، لہذا سائل کو محض شک کی وجہ سے کپڑے اور فرش وغیرہ دھونے کی ضرورت نہیں، البتہ اگر قطرے نکلنے کا یقین یا ظن غالب ہوجائے، تو اس سے وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور جسم اور کپڑوں وغیرہ میں جہاں یہ قطرے لگے ہوں وہ جگہ بھی ناپاک ہوگی ، چنانچہ اس دوسری صورت میں دوبارہ وضو کرنا اور اس ناپاک جگہ کو دھو کر پاک کرنا لازم اور ضروری ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في المحيط البرهاني : ومن شك في الحدث، ‌فهو ‌على ‌وضوئه، لأنه على يقين من الطهارة، وعلى شك من الحدث واليقين لا يزال بالشك بالشك (‌‌الفصل الثاني: في بيان ما يوجب الوضوء وما لا يوجب، ج 1، ص 76، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
وفی الهدایة : ‌المعاني ‌الناقضة ‌للوضوء كل ما يخرج من السبيلين " لقوله تعالى: {أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ} [النساء:43] وقيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم ما الحدث قال: " ما يخرج من السبيلين " وكلمة ما عامة فتتناول المعتاد وغيره (‌‌فصل في نواقض الوضوء ، ج۱، ص17، ط : دار إحياء التراث العربي، بيروت)-
وفی رد المحتار : تحت (قوله: لطمأنينة القلب) ‌لأنه ‌أمر ‌بترك ‌ما يريبه إلى ما لا يريبه، وينبغي أن يقيد هذا بغير الموسوس أما هو فيلزمه قطع مادة الوسواس عنه وعدم التفاته إلى التشكيك؛ لأنه فعل الشيطان وقد أمرنا بمعاداته ومخالفته رحمتي (سنن الوضوء ، ج 1، ص 118-119 ط : سعيد)-
وفي الدر المختار : ‌ولو ‌شك ‌في ‌نجاسة ‌ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر (سنن الوضوء ، ج 1، ص 151 ، ط : سعيد)-
و فی قواعد الفقه : ‌الأصل ‌أن ‌ما ‌ثبت باليقين لا يزول بالشك اهـ(ص 11، ط : الصدف الببلشرز، كراتشي)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77145کی تصدیق کریں
0     1022
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات