نجاسات اور پاکی

ناپاک کارپیٹ دھونے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
81019
| تاریخ :
2025-01-29
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ناپاک کارپیٹ دھونے کی ایک صورت کا حکم

اگر ناپاک کارپیٹ کو زمین پر بچھا کر جاری پانی (یعنی بہتے ہوئے پانی) سے اس طرح دھویا جائے کہ ایک طرف سے پانی ڈالا جائے اور دوسری طرف سے وہ پانی بہہ کر نالی میں نکل جائے، تو کیا قالین پاک ہو جائے گا؟اسی طرح، کیا قالین کے نیچے کی زمین اور راستے میں آنے والی چیزیں بھی پاک کہلائیں گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ناپاک قالین کو اگر زمین پر بچھا کر اس پر تین یااس سے زائد مرتبہ اس قدر پانی بہادیا جائے کہ اس پانی کے نکلنے کے ساتھ قالین سے ناپاکی کے دور ہونے کا یقین ہوجائے، تو ایسی صورت میں وہ قالین پاک شمار ہوگی ، اور اس کے ضمن میں نیچے والی زمین بھی شرعاً پاک شمار ہوگی، ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

‌ وفی البحر: وأما ‌حكم ‌الصب فإنه إذا صب الماء على الثوب النجس إن أكثر الصب بحيث يخرج ما أصاب الثوب من الماء وخلفه غيره ثلاثا فقد طهر؛ لأن الجريان بمنزلة التكرار والعصر والمعتبر غلبة الظن هو الصحيح وعن أبي يوسف إن كانت النجاسة رطبة لا يشترط العصر، وإن كانت يابسة فلا بد منه وهذا هو المختار، كذا في السراج الوهاج الخ۔ ( باب الأنجاس، کتاب الطھارۃ، ج: 1 ص: 250، ط: ماجدیہ)۔
وفی النھر الفائق: لو صب الماء على الثوب النجس إن أكثر الصب بحيث يخرج ما أصاب الثوب من الماء ويخلفه غيره ثلاثا فقد طهر لأن ‌الجريان ‌بمنزلة ‌التكرار ‌والعصر ‌المعتبر غلبة الظن هو الصحيح انتهى الخ۔ (باب الأنجاس، ج:1، ص: 151، ط؛ دار الکتب العلمیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81019کی تصدیق کریں
0     582
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات