نجاسات اور پاکی

کیا فقط پانی سے استنجاء کرنا درست ہے ؟

فتوی نمبر :
82655
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کیا فقط پانی سے استنجاء کرنا درست ہے ؟

بغیر ڈھیلے کے استنجاء کرنا اور پانی پر اکتفاء کرنا کیسا ہے ،اس سے پاکی حاصل ہوگی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ صرف پانی سے استنجاء کرنا بھی درست ہے،اور اس سے پاکی حاصل ہو جائیگی ،البتہ اگر پہلے کسی ڈھیلے یا پتھر یا ٹشو سے پیشاب کے قطرے سوکھالیے جائیں،اس کے بعد پانی سے بھی استنجاء کر لیا جائے،تو یہ زیادہ پاکی کا باعث ہے،اور اس پر قرآن مجید میں اشارۃً اس کی فضیلت بھی وارد ہوئی ہے،لہذا اس کا اہتمام کرناچاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیہ:ثم الجمع بین الماء والحجر أفضل، ویلیہ فی الفضل الاقتصار علی الماء ویلیہ الاقتصار علی الحجر وتحصل السنة بالکل وإن تفات الفضل کما أفادہ في الإمداد وغیرہ (شامي: ۱/۵۵۰)۔
وفی الدر المختار: (والغَسل) بالماء إلی أن یقع فی قلبہ أنہ طہر مالم یکن موسوسًا (الٰی قولہ) (سنۃ مطلقًا) وفی رد المحتار: أی فی زماننا وزمان الصحابہ لقولہ تعالٰی: {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ} قیل لما نزلت قال رسول اﷲ ﷺ یا أہل قباء إن اﷲ اثنی علیکم فما ذا تصنعون عندالغائط؟ قالوا نتبع الغائط الأحجار ثم نتبع الأحجار الماء فکان الجمع سنۃ علی الإطلاق فی کل زمان وہو الصحیح وعلیہ الفتویٰ۔ (1/۳۳۷/ ۳۳۸)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82655کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات