نجاسات اور پاکی

پیشاب کے قطرہ آنے والے شخص کیلئے حج و عمرہ کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہوگا؟

فتوی نمبر :
85191
| تاریخ :
2025-08-11
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پیشاب کے قطرہ آنے والے شخص کیلئے حج و عمرہ کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہوگا؟

السلام علیکم!امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔میں پچھلے دو سال سے پیشاب کی بیماری میں مبتلا ہوں۔ اس بیماری میں مجھے پیشاب کے قطرے آتے ہیں، پیشاب رک رک کر آتا ہے، اور جب مثانے پر دباؤ پڑتا ہے تو قطرے لیک ہونے کا ڈر رہتا ہے۔جب میں پیشاب کرتا ہوں تو میرا مثانہ خالی ہونے میں تقریباً 30 سے 40 منٹ لگتے ہیں، اور اکثر 30 سے 40 منٹ کے بعد بھی مثانہ پوری طرح خالی نہیں ہوتا۔ اس کے بعد بھی 30 سے 40 منٹ تک پیشاب کے قطرے آتے رہتے ہیں، اور کبھی کبھی ایک گھنٹے بعد بھی آ جاتے ہیں، یا بعض اوقات رک جاتے ہیں اس کی کوئی یقین دہانی نہیں۔اس لیے میرا سوال یہ ہے کہ میں نماز کیسے پڑھوں؟ میں ہر وقت انڈر ویئر اور ٹشو استعمال کرتا ہوں تاکہ اگر قطرے آئیں تو کپڑوں پر نہ لگیں بلکہ ٹشو پر لگ جائیں۔ میں کپڑے کا ٹشو استعمال کرتا ہوں۔ میرے لیے نماز کا کیا حکم ہے؟اگر قطرے عضوِ خاص کو لگ جائیں یا عضو کے اردگرد لگ جائیں تو میں کیا کروں؟ کیا میں ٹشو استعمال کر کے نماز پڑھ سکتا ہوں؟ اور اگر قطرے آ بھی رہے ہوں لیکن وہ ٹشو پر لگ جائیں، تو کیا اس حالت میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟میں علاج بھی کروا چکا ہوں لیکن ابھی تک اس کا حل نہیں نکلا۔دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے لیے عمرہ یا حج کا کیا حکم ہے؟ میں عمرہ کیسے ادا کروں اگر میرے احرام کو قطرے لگ جائیں یا میرے جسم کو لگ جائیں؟ اور اگر میں احرام کے نیچے عضو پر ٹشو پیپر رکھ لوں تو پھر میرے لیے کیا حکم ہو گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو اگر پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل کے ساتھ نہ آتے ہوں کہ جس کی وجہ سے اس کے لیے نماز کے پورے وقت میں کامل طہارت کے ساتھ فقط فرض کی نماز پڑھنا بھی ممکن نہ ہو بلکہ کبھی کبھار پیشاب کے قطرے آتے ہوں( جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے) تو ایسی صورت میں شرعا سائل معذور کے حکم میں نہیں بلکہ سائل کو جب بھی پیشاب کے قطرے آئیں تو اس سے سائل کا وضو ٹوٹ جائے گا جس کے بعد نماز وغیرہ کے لیے دوبارہ وضو کرنا اور اگر پیشاب کے قطرے کپڑوں یا بدن پر ایک درہم کے بقدر لگے ہوں تو ان کو دھو کر پاک کرنا لازم اور ضروری ہوگا البتہ اگر سائل شرمگاہ کے سوراخ میں ٹشو پیپر وغیرہ رکھ کر پیشاب کے قطروں کو روک دے تو جب تک پیشاب کی تری ٹشو پیپر وغیرہ کے بیرونی حصے پر ظاہر نہ ہو تب تک سائل کا وضو نہیں ٹوٹے گا البتہ اگر پیشاب کی تری ٹشو پیپر وغیرہ کے بیرونی حصے پر ظاہر ہو جائے یا ٹشو پیپر وغیرہ شرمگاہ سے ہٹ جائے اور اس کے اندر ونی حصے پرتری لگی ہوئی ہو تو ایسی صورت میں شرعا سائل کا وضو ٹوٹ جائے گا، پھر نماز وغیرہ دیگر عبادات کے لیے وضو کرنا لازم ہوگا جبکہ حج و عمرہ میں طواف کے علاوہ دیگر افعال (سعی وغیرہ )کے لیے باوضو ہونا لازم نہیں لہذا حج و عمرے کے دیگر افعال تو بغیر وضو کے بھی ادا کیے جا سکتے ہیں البتہ طواف کے لیے باوضو ہونا چونکہ لازم ہے اس لیے سائل کو چاہیے کہ حج عمرہ کا طواف شروع کرنے سے قبل پیشاب سے فراغت حاصل کر کے وضو کرے اور اگر شرمگاہ میں ٹشو پیپر وغیرہ رکھنے سے قطرے روکنا ممکن ہو تو ٹشو پیپر رکھ کر طہارت کے ساتھ طواف مکمل کرے لیکن اگر اس کے باوجود بھی طواف کے دوران پیشاب کے قطرے آئیں تو طواف کو درمیان میں چھوڑ کر وضو بنائے اور اس کے بعد طواف کے بقیہ چکر پورے کر کے طواف مکمل کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی التاتارخانیۃ:وعلی ھذا الرجل اذا حشی احلیلہ فابتل الجانب الداخل دون الجانب الخارج لا ینقض وضوءہ ،وان ابتل الجانب الخارج فکذلک اذا کانت القطنۃ متسفلۃ عن راس الاحلیل متجافیا عنہ ،وان کانت القطنۃ عالیۃ عن راس الاحلیل او محاذیۃ لہ ینتقض وضوءہ ،(الی قولہ ) نفذت البلۃ الی الجانب الخارج او لم تنفذ اھ(ج:1،ص:477)
و فی الدر المختار :(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل اھ(ج:1،ص:305)
و فی الھندیہ :(ومما يتصل بذلك أحكام المعذور) شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا وهو الأظهر كالانقطاع لا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله حتى لو سال دمها في بعض وقت صلاة فتوضأت (تحت قولہ ) المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق اھ(ج:1،ص:40/41)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85191کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات