نجاسات اور پاکی

زمزم کے پانی سے استنجاء وناپاکی دور کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
85674
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

زمزم کے پانی سے استنجاء وناپاکی دور کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زمزم کے پانی سے ناپاک کپڑے کو پاک کرنا اور استنجاء کرنا کیساہے؟ اور اسی طرح زمزم کے پانی کو واپسی پر ساتھ لیکر آنا اسکا کیا حکم ہے؟ آیا یہ سنت ہے یا مستحب یا کیا ہے؟ مہربانی فرما کر جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زمزم کا پانی قابل احترام ہے، اس لئے اس سے ناپاک کپڑے دھونا اوراستنجاء کرنا مکروہ ہے، اور زمزم کا پانی اپنے ساتھ لانا مستحب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیۃ: [مطلب في الاستنجاء بماء زمزم] مطلب في كراهية الاستنجاء بماء زمزم (قوله يكره الاستنجاء بماء زمزم) وكذا إزالة النجاسة الحقيقية من ثوبه أو بدنه، حتى ذكر بعض العلماء تحريم ذلك. ويستحب حمله إلى البلاد، فقد روى الترمذي «عن عائشة - رضي الله عنها - أنها كانت تحمله وتخبر أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كان يحمله» وفي غير الترمذي «أنه كان يحمله، وكان يصبه على المرضى ويسقيهم. وأنه حنك به الحسن والحسين - رضي الله عنهما -» " من اللباب وشرحه. الخ (ج2 صـ625 ط: دار الفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 85674کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات