سوال:میرے گاؤں میں ایک جامع مسجد موجود ہے جو بازار میں واقع ہے۔ وہاں گزشتہ 17 سال سے باقاعدگی کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی ہے۔ اب گاؤں سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر، ایک دوسرے محلے میں ایک نئی جامع مسجد تعمیر ہو چکی ہے، اور وہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی مسجد میں بھی نمازِ جمعہ کا آغاز کریں۔ اس نئی مسجد کے اردگرد مزید محلے بھی ہیں، جن کے لوگوں کے لیے یہ مسجد زیادہ قریب ہے بنسبت پرانی جامع مسجد کے۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی گاؤں میں پہلے سے موجود جامع مسجد کے ہوتے ہوئے، دوسری جامع مسجد میں نمازِ جمعہ قائم کرنا شرعاً جائز ہے؟
نوٹ: ان دونوں مساجد کا فقہی مسلک مختلف ہے۔براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں، اگر سائل کے گاؤں کی جامع مسجد میں جگہ کی تنگی وغیرہ کا کوئی مسئلہ نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ ایک ہی جگہ بازار کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ قائم کی جائے، تاکہ مسلمانوں کی اجتماعیت کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ ہو۔ تاہم اگر نئی مسجد میں جمعہ کے قیام کی تمام شرائط پائی جا رہی ہوں، اور بازار کی جامع مسجد تک پہنچنے میں لوگوں کو دشواری کا سامنا ہو، تو شرعاً اس نئی مسجد میں بھی جمعہ کا قیام درست ہوگا۔
کما فی النھایۃ فی شرح الھدایۃ: (وعنه أنهم إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم) أي: إذا اجتمع من يجب عليهم الجمعة لا كل من يسكن في ذلك الموضع من الصبيان، والنسوان، والعبيد؛ لأنه ذكر في «المبسوط» هذا القول منسوبا إلى ابن شجاع، [وقال: قال ابن شجاع رحمه الله] أحسن ما قيل فيه إذا كان أهلها بحيث لو اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم ذلك، حتى احتاجوا إلى بناء مسجد آخر للجمعة، فهذا مصر جامع يقام فيه الجمعة، وإنما يكون هذا [لاحتياج أهل المصر غالبا] الاحتياج غالبا عند اجتماع من عليه الجمعة؛ لأنهم هم الذين يجتمعون عادة لا كل من يسكن في ذلك الموضع اھ ( باب صلوۃ الجمعۃ، ج:4، ص: 65، ناشر: مرکز الدراسات الاسلامیۃ أم القریٰ )-
العنایۃ شرح الھدایۃ علی ھامش فتح القدیر: (وعنه) أي عن أبي يوسف (أنهم إذا اجتمعوا) أي اجتمع من تجب عليهم الجمعة لا كل من يسكن في ذلك الموضع من الصبيان والنساء والعبيد لأن من تجب عليهم مجتمعون فيه عادة. قال ابن شجاع: أحسن ما قيل فيه إذا كان أهلها بحيث لو اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم ذلك حتى احتاجوا إلى بناء مسجد آخر للجمعة وهذا الاحتياج غالب عند اجتماع من عليه الجمعة، والأول اختيار الكرخي وهو ظاهر الرواية وعليه أكثر الفقهاء والثاني اختيار أبي عبد الله الثلجي. وعن أبي يوسف رواية أخرى غير هاتين الروايتين وهو كل موضع يسكنه عشرة آلاف نفر فكان عنه ثلاث روايات. وقوله (والحكم غير مقصور) يعني جواز إقامة الجمعة ليس بمحصور في المصلى (بل تجوز في جميع أفنية المصر لأنها) أي الأفنية (بمنزلة المصر في حوائج أهله) ويعرف من هذا التعليل تعريف الفناء، وهو ما أعد لحوائج أهل المصر، وفناء الدار وفناء كل شيء كذلك اھ ( باب صلوۃ الجمعۃ، ج:2، ص: 52، ناشر: دار الفکر )-