میں نے ایک بچے کوگود لیا ہے،اور میں نے ڈاکومینٹس /نادراوغیرہ میں باپ کی جگہ اپنا نام لکھا ہے،پاکستانی قانون اور اسلامی قانون کے مطابق، کیا یہ درست ہےیا نہیں؟
واضح ہو کہ کسی بچے کو گود لینا اور اس کی پرورش و تربیت کرنا شرعاً جائز،بلکہ باعث اجروثواب ہے، لیکن اس پرورش کرنے کی وجہ سے وہ اس گود لینے والے کی حقیقی اولاد نہیں بن جاتی، بلکہ وہ اپنے حقیقی والدین کی ہی اولاد شمار ہوتی ہے، چنانچہ کسی بھی لے پالک بچے کی ولدیت اپنی طرف منسوب کرنا اور اس کے متعلقہ سرکاری یا غیر سرکاری دستاویزات میں بجائے اس کے حقیقی والدکے اپنا نام درج کروانا قرآن وسنت کی صریح نصوص کے خلاف اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، صورتِ مسؤلہ میں سائل کا گود لیے ہوئے بچے کے ڈاکومینٹس /نادراوغیرہ میں باپ کی جگہ اپنا نام لکھوانا شرعاً ناجائز وحرام ہے ،جس کی وجہ سے وہ بہت سخت گناہ گار ہوا ہے، لہذا سائل کے ذمہ لازم ہے کہ وہ بچے سے متعلقہ تمام دستاویزات بشمول شناختی کارڈ میں حقیقی والد کا نام ہی درج کرائے ، البتہ سرپرست کے خانہ میں سائل اپنا نام لکھواسکتا ہے۔
قال اللہ تعالی: وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ اھ(سورۃ الاحزاب: 4)۔
وقال اللہ تعالیٰ فی مقام آخر:ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًااھ(سورۃ الاحزاب /5)۔
و فی التفسیرالمظہری:فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك-وفى الاية ردّ لما كانت العرب تقول من ان اللبيب الأريب له قلبان والزوجة المظاهر منها تبين من زوجها وتحرم عليه كالام ودعى الرجل ابنه يرثه ويحرّم بالتبني ما يحرم بالنسب اھ (7 /284)۔
و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:(وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم(لا ترغبوا)أي:لا تعرضوا(عن آبائكم)أي: عن الانتماء إليهم (فمن رغب عن أبيه) : أي: وانتسب إلى غيره (فقد كفر) : أي قارب الكفر، أو يخشى عليه الكفر. في النهاية: الدعوة بالكسر في النسب، وهو أن ينتسب الإنسان إلى غير أبيه وعشيرته، وكانوا يفعلونه فنهوا عنه، والادعاء إلى غير الأب مع العلم به حرام، فمن اعتقد إباحته كفر لمخالفة الإجماع، ومن لم يعتقد إباحته فمعنى (كفر) : وجهان، أحدهما:أنه أشبه فعله فعل الكفار، والثاني: أنه كافر نعمة الإسلام. قال الطيبي: ومعنى قوله: فالجنة عليه حرام على الأول ظاهر، وعلى الثاني تغليظ (متفق عليه)ولفظ ابن الهمام:«من ادعى أبا في الإسلام غير أبيه،وهو يعلم أنه غير أبيه،فالجنة عليه حرام» وأما لفظ الكتاب فمطابق لما في الجامع الصغير.اھ (5/2170)۔
وفی روح المعانی: قولہ تعالی (ادعوھم لابائھم) أی أنسبوھم إلیھم وخصوھم بھم أخرج الشیخان والترمذی والنسائی وغیرھم عن ابن عمر رضی اللہ عنہ أن زید ابن حارثۃ مولی رسول اللہ ﷺ ما کنا ندعوہ إلا زید بن محمد حتی نزل القرآن (ادعوھم لابائھم) فقال النبی ﷺ أنت زید بن حرثۃ بن سراحیل (12 / 147 )۔
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0