السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ محترم ! میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے محلہ کی مسجد کے قاری صاحب حفظہ اللہ اللّٰہ تعالیٰ ان کے علم و عمل میں برکت فرمائیں۔ جمعے کے روز خطبہ ثانیہ کے بعد تقریباً دو سے تین منٹ بیٹھ جاتے ہیں اور ایک بندہ چندہ کرتا ہے، کیا خطبہ ثانیہ کے بعد تھوڑی دیر نماز میں تاخیر کی جا سکتی ہے۔؟
خطبۂ جمعہ کے بعد نمازِ جمعہ سے قبل چندہ کرنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ اس کی وجہ سے نماز میں زیادہ تاخیر لازم نہ آتی ہو ، تاہم بہتر یہ ہےکہ خطبہ کے بعد چندہ کرنےکے بجائے خطبہ سے قبل اس کا اہتمام کرلینا چاہیے ۔
کما فی الدر المختار: (إذا جلس على المنبر) فإذا أتم أقيمت ويكره الفصل بأمر الدنيا ذكره العيني اھ
و فی رد المحتار تحت: (قوله فإذا أتم) أي الإمام الخطبة (قوله أقيمت) بحيث يتصل أول الإقامة بآخر الخطبة وتنتهي الإقامة بقيام الخطيب مقام الصلاة (إلی قولہ) (قوله بأمر الدنيا) إما بنهي عن منكر أو أمر بمعروف فلا وكذا بوضوء أو غسل لو ظهر أنه محدث أو جنب كما مر بخلاف أكل أو شرب حتى لو طال الفصل استأنف الخطبة كما مر فافهم اھ ( باب الجمعۃ، ج:2، ص: 161، ناشر: سعید )-