نجاسات اور پاکی

پیشاب کے قطرے آنے کی صورت میں نماز کا حکم

فتوی نمبر :
88758
| تاریخ :
2025-11-12
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پیشاب کے قطرے آنے کی صورت میں نماز کا حکم

السلام علیکم!شیخ میں پہلے نماز نہیں پڑھتا تھا، لیکن پچھلے سال سے اللہ کے فضل سے نماز پڑھنا شروع کی ہے، لیکن کچھ مہینوں سے میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ جب بھی میں پیشاب کرتا ہوں تو پیشاب کے چھینٹے مجھ پر واپس آ جاتے ہیں، اور میرے جسم کے مختلف حصوں پر لگ جاتے ہیں، یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ بچپن میں میری ایک سرجری ہوئی تھی جس کی وجہ سے پیشاب کا بہاؤ قدرتی طور پر بہت چھینٹوں کی صورت میں ہوتا ہے، چاہے میں کتنی بھی کوشش کر لوں، چھینٹے مجھ پر ضرور پڑتے ہیں، جس کی وجہ سے میں ہر بار پیشاب کرنے کے بعد غسل یا شاور کرتا ہوں،اسی وجہ سے میں نے بیت الخلاء جانے سے ڈرنا شروع کر دیا، اور پیشاب روک کر رکھنے لگا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب پیشاب خودبخود ٹپکنے لگتا ہے، اب جب بھی میں پیشاب کے لئے جاتا ہوں تو بہت زیادہ وقت لگتا ہے، پھر میں شاور کر کے آتا ہوں، اور یہ دیکھنے کے لئے بار بار چیک کرتا ہوں کہ کہیں پیشاپ کے قطرے تو نہیں ٹپک رہے، عام چلنے پھرنے سے بھی پیشاپ کے قطرے نکلتے ہیں، چاہے میں کچھ بھی کر لوں، بہرحال قطرے نکلتے ہیں، اور جو مادہ خارج ہوتا ہے، وہ بالکل صاف لیکن بہت سا چکنا ہوتا ہے، اور یہ صرف حرکت کرنے یا چلنے سے بھی نکل آتا ہے، میں ڈاکٹرز کے پاس گیا، انہوں نے ٹیسٹ کیے اور کہا کہ سب کچھ نارمل ہے، یہاں تک کہ وہ ڈاکٹر جس نے میری بچپن میں سرجری کی تھی، اس نے بھی بتایا کہ سرجری کے بعد پیشاب میں چھینٹے آنا نارمل بات ہے،اب میں بالکل بے بس ہوں، میری زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے، میں بار بار کپڑے تبدیل نہیں کر سکتا، یہ سب پاگل پن لگتا ہے، لیکن میں بہت عرصے سے یہی کر رہا ہوں، اور اب میں مزید برداشت نہیں کر سکتا،براہِ مہربانی شیخ! میری اس حالت میں مدد کریں، میں پہلے کی طرح نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو اگر پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل کے ساتھ نہ آتے ہوں کہ جس کی وجہ سے نماز کے پور ے وقت میں اسے پاکی کےساتھ فقط‬‎ فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی میسر نہ ہو، بلکہ قضاء حاجت کے بعد کچھ وقت کیلے قطرے آتے ہوں، تو ایسی صورت میں سائل شرعاً معذور شمارنہ ‎ہو گا، بلکہ سائل کو چاہیئے کہ نماز سے کچھ وقت پہلے قضاء حاجت سے فارغ ہو کر انتظار کرے اور جب قطرے آنا بند ہو جائیں، تو اسکے بعد وضوء کر کے‬‎ ‎‫نماز پڑھے ۔جبکہ پیشاب کرتے وقت مذکور عذر کی وجہ سے بدن پر کچھ چھینٹے لگ جایا کرتے ہوں، تو اس کے لئے باقاعدہ غسل کرنا یا کپڑے بدلنا ضروری نہیں، بلکہ جہاں پر قطرے لگے ہوں استنجا کرتے وقت وہاں بھی پانی بہا لیا جائے تو شرعاً یہ بھی کافی ہوگا، نیز اس صورت میں بھی جب تک پیشاب کے قطرے نکلنا یقین نہ ہو جائے، تب تک سائل پاک ہی شمار ہوگا، فقط شکوک و شبہات کا اعتبار نہ ہوگا، اور یقینی صورتحال میں بھی بدن اور کپڑوں کے جس جگہ قطرے لگ جائیں، اسی کو دوبارہ وضو کرتے وقت دھو لیا جائے تو کپڑے اور بدن پاک شمار ہوں گے، البتہ پیشاب سے فراغت کے بعد یا عام حالات میں قطرات کے جسم اور کپڑوں پر لگنے سے حفاظت کے لئے انڈویئر کے ساتھ ٹیشو پیپر وغیرہ استعمال کر کے احتیاط کی جا سکتی ہے،‬
البتہ اگر سائل کو پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل کےساتھ آتے ہوں کہ اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر‬‎ ‎‫کے تسلسل کی وجہ سے اسے اتنا وقت بھی نہ ملے ، جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز اداء کر سکے ، تو ایسی صورت میں سائل شرعاً معذور‬‎ ‎کے حکم میں داخل ہو جائیگا ،اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگیِ ظہر کے لئے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے، اگر اسے اس‬‎ ‎‫دوران اتناوقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر سکے توعصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط‬ فرض نمازِ ظہر ادا کرے ، اس کے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کر کے‬‎ ‎‫نمازِ عصر باجماعت ادا کر لے ، اس دوران اگر پیشاب کے قطرے نکلتے بھی رہیں، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح‬‎ ‎‫مغرب و عشاء میں بھی وہ ایسا ہی کرے، ہر نماز کے لئےغسل کرنا ضروری نہیں بلکہ ہر نماز کیلئے الگ الگ وضو کرلیا کرے ، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا، تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں‬‎ ‎‫ٹوٹے گا ،‬البتہ اس دوران اگر پورانماز کا وقت اسطرح گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو، تو ایسی صورت میں سائل شرعاً معذور نہ رہے گا۔لہذا اس مسئلہ کو خوب سمجھ کر اس کے مطابق عمل کرنے کا اہتمام چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (‌وصاحب ‌عذر ‌من ‌به ‌سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لان الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لانه الانقطاع الكامل (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحو (لكل فرض) اللام للوقت كما في - لدلوك الشمس (الاسراء: 81) (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) الخ(باب الحیض، مطلب فی أحکام المعذور، ج 1، ص 305، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: والمراد من قوله أول ما شك أن الشك في مثله لم يصر عادة له؛ لا أنه لم يبتل به قط، وإن كان يعرض له ذلك كثيرا لم يلتفت إليه، لأن ذلك وسوسة، والسبيل في ‌الوسوسة قطعها؛ لأنه لو اشتغل بذلك لأدى إلى أن يتفرع لأداء الصلاة، وهذا لا يجوز الخ (كتاب الطہارة، ج 1، ص 33، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالصمد فرید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88758کی تصدیق کریں
0     245
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات