السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ، جناب مفتی صاحب! میرا شہد کا کاروبار ہے،میں نے پیکنگ کے لیے ڈرم میں تقریباً ۱۰۰ کلو بیری شہد ،جس کی مالیت تقریباً دو لاکھ بنتی تھی۔اس میں بلی گر کرمر گئی ہے،لیکن شہد کے اوصاف میں فرق نہیں آیا ہےاور بھی شہد کے سطح پر پڑی ہوئی تھی ،لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کب گری اور کتنی دیر اس کے اندر رہی، کیونکہ شہد گاڑھا ہوتا ہے۔ چونکہ بلی کی موت شہد کے اندر ہوئی ہے، اس وجہ سے میں شدید پریشانی میں ہوں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں مکمل رہنمائی فرمائیں: ١۔ کیا اتنی بڑی مقدار کا یہ شہد شرعاً ناپاک ہو گیا ہے؟ ٢۔ اس صورت میں میرے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
شہد کےڈرم میں بلی کے گر کرمرجانے سے مذکور شہد ناپاک (نجس) ہو گیاہے،اس لیے بہتریہی ہے کہ سائل اس شہدکوضائع کردےاوراس خسارے کوبرداشت کرلے،البتہ اگرمذکورخسارہ برداشت سے باہرہوتوشہدکودوبارہ پاک بھی کیاجاسکتاہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ ڈرم میں جس قدر شہد ہو، اسی قدراس میں پانی ڈال کراس کوآگ پر جوش دیا جائے، یہاں تک کہ پانی خشک ہوکر ختم ہوجائے اور صرف شہد باقی رہ جائے، یہی عمل تین مرتبہ دہرانے سے مذکورشہد پاک ہوجائے گااور اس کا بیچنا ، استعمال کرنادرست ہوگا ۔
کما فی الدر:ويطهر لبن وعسل ودبس ودهن يغلي ثلاثاً الخ
وفی الشامیۃ: تحت(قوله: ويطهر لبن وعسل إلخ) قال في الدرر: لو تنجس العسل فتطهيره أن يصب فيه ماء بقدره فيغلى حتى يعود إلى مكانه، والدهن يصب عليه الماء فيغلى فيعلو الدهن الماء فيرفع بشيء هكذا ثلاث مرات، وهذا عند أبي يوسف خلافا لمحمد وهو أوسع وعليه الفتوى كما في شرح الشيخ إسماعيل عن جامع الفتاوي الخ(مطلب فی تطھیر الدھن والعسل،ج:1،ص:334،ط:سعید)۔