السلام علیکم !میرا بیٹا 16 سال کا ہے developmental delay ذہنی طور پر بچہ ہے،کیا ماں زیر ناف بالوں کی صفائی کر سکتی ہے؟جزاک اللہ خیرا کثیرا
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص اتنا زیادہ معذور یا بیمار ہو جائے کہ از خود کسی طرح زیر ناف بال صاف نہ کر سکتا ہو، اور اس کی بیوی بھی موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں بھائی، باپ وغیرہ کے لیے اپنے بیٹے یا بھائی کے زیر ناف بال صاف کرنے کی گنجائش ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور بیٹا اگرچہ ذہنی طور پر بچہ ہے، لیکن اگر وہ خود کریم، یا لوشن وغیرہ کے ذریعہ زیر ناف بال صاف کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو دیگر افراد کیلئے اس کے زیر ناف بال صاف کرنا درست نہ ہوگا، تاہم اگر وہ خود زیر ناف بال صاف کرنے پر قادر نہ ہو، تو ایسی صورت میں اس کے والد یا بھائیوں کے لیے اس کے زیر ناف بال صاف کرنے کی گنجائش ہے، مگر بالوں کی صفائی کرتے وقت حتی الامکان اپنی نظروں کی حفاظت لازم ہے، جبکہ ماں کا اپنے مذکور بیٹے کے زیر ناف حصہ کو چھونا مخالف جنس ہونے کی وجہ سے شرعاًجائز نہیں، جس سے اجتناب چاہیے۔
کما فی الھندیۃ: فی جامع الجوامع حلق عانتہ بیدہ وحلق الحجام جائز ان غض بصرہ کذا فی التاتار خانیۃ الخ(کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر فی الختان الخ، ج5، ص 358، ط: ماجدیۃ)۔
وفی التاتار خانیۃ: وذکر الفقیہ ابو اللیث رحمہ اللہ تعالی، فی فتاواہ: فی باب الطھارات: قال محمد بن مقاتل الرازی: لا بأس بأن یتولی صاحب الحمام عورۃ إنسان بیدہ عند التنویر، إذا کان یغض بصرہ، کما أنہ لا بأس بہ، إذا کان یداوی جرحا "أو قرحا" قال الفقیہ: وھذا فی حالۃ الضرورۃ لا فی غیرھا، وینبغی لکل أحد أن یتولی عانتہ بیدہ إذا تنور الخ(کتاب الکراھیۃ، الفصل التاسع فیما یحل للرجل الخ، ج 18، ص 99، ط: رشیدیۃ)۔
وفی المحیط البرھانی: وذكر الفقيه أبو الليث رحمه الله في «فتاويه» في باب الطهارات: قال محمد بن مقاتل الرازي: لا بأس بأن يتولى صاحب الحمام عورة إنسان بيده عند التنوير إذا كان يغض بصره كما أنه لا بأس به إذا كان يداوي جرحاً أو قرحاً، قال الفقيه: وهذا في حالة الضرورة لا في غيرها: لأن كل موضع لا يجوز النظر إليه لا يجوز مسه، إلا من فوق الثياب، وينبغي لكل أحد أن يتولى عانته بيده إذا تنور، فإنه روي عن النبي عليه السلام كان يتولى ذلك بنفسه، وإذا أصابت المرأة قرحة في موضع لا يحل للرجل أن ينظر إليه، علم امرأة دواءها لتداويها: لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف وكذا في امرأة العنين تنظر إليها النساء، فإن قلن: هي بكر فرق القاضي بينهما، وكذا لو اشترى جارية على أنها بكر، فقبضها فقال: وجدتها ثيباً؛ تنظر إليها النساء للحاجة إلى فصل الخصومة، وإن لم يجدوا امرأة تداوي تلك القرحة، ولم يقدروا على امرأة تعلم ذلك، وخافوا أنها تهلك، أو يصيبها بلاء أو وجع، فلا بأس بأن يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها رجل، ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع؛ لأن نظر الجنس إلى غير الجنس أغلظ، فيعتبر فيه تحقق الضرورة، وذلك عند خوف الهلاك، وذوات المحارم والأجنبيات في هذا على السواء: لأن النظر إلى العورة لا يحل بسبب المحرمية الخ(کتاب الاحسان والکراھیۃ، ج 5، ص 337، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔