نجاسات اور پاکی

مسلمان اور غیر مسلم کا ایک ہی واشنگ مشین استعمال کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
89673
| تاریخ :
2025-12-07
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

مسلمان اور غیر مسلم کا ایک ہی واشنگ مشین استعمال کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا نام عمر ہے اور میں حال ہی میں پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے برطانیہ آیا ہوں۔ میں اس وقت ایک اسٹوڈنٹ اکاموڈیشن (طلبہ کی رہائش گاہ) میں رہ رہا ہوں۔یہاں لانڈری روم موجود ہیں جن میں کئی واشنگ مشینیں (تقریباً 5 سے 7) اور کئی ڈرائر (تقریباً 3 سے 5) ہیں۔ تاہم یہ تمام مشینیں اس رہائش گاہ میں رہنے والے تمام افراد استعمال کرتے ہیں۔
اس حوالے سے میرا سوال یہ ہے کہ: اگر ان واشنگ مشینوں یا ڈرائرز کو کسی غیر مسلم نے استعمال کیا ہو، اور ان کے کپڑے نجس یا ناپاک ہوں، اور انہوں نے ان کپڑوں کو دھو لیا ہو اور دھلائی مکمل ہو چکی ہو (یعنی واشنگ مشین میں استعمال ہونے والا پانی بہہ کر نکل چکا ہو)، تو کیا اس کے بعد میں وہی مشین استعمال کر سکتا ہوں؟مزید یہ کہ چونکہ یہ مشینیں کارڈ کے ذریعے چلتی ہیں، اس لیے یہ عام گھریلو مشینوں سے کچھ مختلف ہیں۔ ہم ان میں اپنی مرضی کے مطابق موڈز سیٹ نہیں کر سکتے (جیسے ڈرم کلین، صرف رِنس یا صرف اسپن وغیرہ)، اور نہ ہی انہیں درمیان میں روکا جا سکتا ہے۔ ان میں صرف فاسٹ واش اور ڈیپ واش (وقت پر مبنی موڈز) ہوتے ہیں، اور ہر سائیکل کے لیے کچھ رقم بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔
ان تمام باتوں کی بنیاد پر میرے درج ذیل سوالات ہیں:
1. کیا میں ایسی واشنگ مشین استعمال کر سکتا ہوں، جس میں کسی اور (غیر مسلم) نے اپنے کپڑے دھوئے ہوں، اور میں اس کے فوراً بعد اپنے کپڑے دھو لوں؟
2. کیا میں ایسے ڈرائر کو براہِ راست استعمال کر سکتا ہوں، جس میں پہلے دھلے ہوئے کپڑے خشک کیے گئے ہوں؟
براہِ کرم ان امور کے بارے میں مناسب رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ واشنگ مشین میں کپڑے دھونا جائزو درست ہے بشرطیکہ واشنگ مشین میں جو پانی ڈالا جارہا ہو، وہ نجس اور ناپاک نہ ہو، اسی طرح اگر واشنگ مشین میں کسی غیر مسلم نے کپڑے دھوئے اور اس کے کپڑوں کے نجس ہونے کاعلم نہ ہو، تو اس کے کپڑوں کو پاک سمجھا جائے گا اور اگر کپڑوں کے نجس ہونے کا علم ہو اور غیر مسلم کے دھونے کے بعد واشنگ مشین سےپرانا پانی مکمل طور سے نکل جانے کے بعد سائل اسے دھوکر استعمال کرسکتا ہے ، تو ایسی مشین میں دھلے کپڑے پاک و صاف شمار ہونگے ، البتہ اگر اس مشین میں اپنے کپڑے دھونے سے قبل اسے باقاعدہ دھوکر استعمال کرنا ممکن نہ ہو تو سائل کو چاہیے کہ مشین سے کپڑے نکالنے کے بعد ان کپڑوں پر تین بار پانی بہا کر ، ہر بار نچوڑے تو اس طرح کرنے سے بھی کپڑے پاک ہوجائیں گے ، جبکہ ڈرائر کے استعمال کرتے وقت اگر وہ پہلے سے خشک ہو اور اس میں ناپاکی کے آثار موجود نہ ہو تو اسے دھوئے بغیر استعمال کرنے کی اجازت ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ولو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر، وتمامه في الأشباه اھ
وفی رد المحتار تحت قوله: (ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن، وكذا الآبار والحياض والجباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار؛ وكذا ما يتخذه أهل الشرك أو الجهلة من المسلمين كالسمن والخبز والأطعمة والثياب اهـ ملخصا(نواقض الوضوء،ج : ١، ص: ١٥١، مط: سعيد)
وفي الدر المختار مع تنوير الأبصار: (و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى اھ
وفي الشامية تحت قوله: بلا عدد به يفتى) كذا في المنية. وظاهره أنه لو غلب على ظنه زوالهما بمرة أجزأه وبه صرح الإمام الكرخي في مختصره واختاره الإمام الإسبيجابي اھ (باب الأنجاس ،مطلب في حكم الوشم ، ج: ١ ص: ٣٣١،مط:سعيد)
وفی شرح مجلة الاحکام: الیقین لا یزول باالشک ، الیقین عند الفقہاء ہو جزم القلب بوقوع الشیئ او عدم وقوعه ویلیه الظن الغالب وہو تجویز احدہما اقوی من الآخر فہو بمنزلة الیقین حکما اھ (المادۃ:٤،ج:١ ،ص: ١٨،مط: رشيدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89673کی تصدیق کریں
0     208
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات