نجاسات اور پاکی

پانی میں کچرا آنے سے وضو اور غسل کا حکم

فتوی نمبر :
90700
| تاریخ :
2026-01-08
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پانی میں کچرا آنے سے وضو اور غسل کا حکم

ہمارے گھر میں استعمال ہونے والا پانی گندہ آتا ہے۔ پانی میں کالے کالے ذرات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں۔ گھر والے بور نہیں کروا کر دیتے، براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔ کبھی کبھی تو غسل کرنے میں بھی بہت پریشانی ہوتی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ پائپ لائن میں آنے والے پانی میں اگر ناپاکی کے شامل ہونے کا یقین نہ ہو اس طور پر کہ پانی کے اوصاف رنگ،بو،ذائقہ میں تبدیلی نہ آئی ہو، تو فقط پانی میں مٹی یا پائپ لائن کے ذرات شامل ہو نے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا،لہذا ایسے پانی سے بھی وضو اور غسل کرنا درست ہوگا،بلا وجہ شکوک و شبہات میں پڑنے سے احتراز چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر المختار : (و) يجوز (بجار وقعت فيه نجاسة و الجارى (الیٰ قوله) ان لم ير)‬‎‬‬‬‬‬ أي يعلم (أثره) (الیٰ قوله) (و هو) إما (طعم أو لون أو ریح )اھ ۔و فی رد المحتار : تحت (قوله و الثاني أشهر(الیٰ قوله) و العرف الآن أنه متى كان الماء‬‎ ‎‫داخلا من جانب و خارجا من جانب آخر يسمى جاريا و إن قل الداخل) اھ (کتاب الطہارة،ج:۱، ص:۱۸۷، ط : سعید)۔ ‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬
‎‫و فی بدائع الصنائع : فإن وقع فی الماء ، فإن كان جاريا فإن كان النجس غير مرئي كالبول و الخمر‬‎‬‬‬‬ و نحوهما لا ينجس ما لم يتغير لونه أو طعمه أو ریحه و إذا ألقي في الماء شي نجس كالجيفة و‎ ‎‫الخمر لا يتنجس ما لم يتغير لونه أو طعمه أو ریحه كذا في منية المصلی اھ(کتاب الطہارة ، ج:۱ِ ص: ۱۷ ط : سعید )
وفی الفتاوی الھندية : و إذا ألقی فی الماء شي نجس كالجيفة و الخمر لا يتنجس ما لم يتغير لونه أو‬‎‬‬‬‬ طعمه أو ريحه كذا فی منية المصلی اھ ‬(کتاب الطہارة ،ج:۱،ص : ۱۷،ط : دار الفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90700کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات