نجاسات اور پاکی

پیشاب نکلنے کے گمان سے کپڑوں کا حکم

فتوی نمبر :
90732
| تاریخ :
2026-01-09
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پیشاب نکلنے کے گمان سے کپڑوں کا حکم

اگر استبرا کرنے کے بعد استنجاء کرتے وقت پیشاب کی نالی میں جلن محسوس ہو لیکن پیشاب کا قطرہ نکلنے کا یقین نہ ہو تو کیا جسم اور کپڑا ناپاک ہو جائے گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جسم، کپڑا وغیرہ کے ناپاک ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کپڑے یا جسم کے کسی حصے پر نجاست کے اثرات نظر آجائے یا اس پر نجاست لگنے کا پختہ یقین ہو، محض شک کی بناء پر کپڑا یا جسم کا حصہ ناپاک نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ میں اگر استنجاء کے وقت صرف پیشاب کے قطروں کے نکلنے کا فقط خیال ہو ، پختہ یقین نہ ہو تو ایسی صورت میں کپڑا اور جسم نا پاک شمار نہ ہوں گے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهندية: ‌والاستبراء ‌واجب حتى يستقر قلبه على انقطاع العود. كذا في الظهيرية قال بعضهم: يستنجي بعدما يخطو خطوات وقال بعضهم: يركض برجله على الأرض ويتنحنح ويلف رجله اليمنى على اليسرى وينزل من الصعود إلى الهبوط والصحيح أن طباع الناس مختلفة فمتى وقع في قلبه أنه تم استفراغ ما في السبيل يستنجي.اھ(الفصل الثالت في الاستنجاء،ج: ١،ص: ٤٩، مط: ماجدية )
وفي الدر المختارمع التنوير الابصار: ولو أيقن بالطهارة وشك بالحدث أو بالعكس أخذ باليقين، ولو تيقنهما وشك في السابق فهو متطهر ومثله المتيمم. ولو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر، وتمامه في الأشباه.اه
وفي رد المحتار تحت (قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن،اھ(كتاب الطهارة،ج:١،ص: ١٥٠-١٥١، مط: سعيد)
وفي الهندية: ومن ‌شك ‌في ‌الحدث فهو على وضوئه ولو كان محدثا فشك في الطهارة فهو على حدثه ولا يعمل بالتحري. كذا في الخلاصة.اھ(كتاب الطهارة،ج: ١،ص: ١٣،مط: سعيد )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90732کی تصدیق کریں
0     207
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات