نجاسات اور پاکی

کمبل اور بیڈ شیٹ پر لگی نجاست کو پاک کرنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
91625
| تاریخ :
2026-02-02
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کمبل اور بیڈ شیٹ پر لگی نجاست کو پاک کرنے کا طریقہ

جناب مسئلہ یہ ہے کہ بوجہ خرابی پیٹ لیکوڈ نجاست بیڈ شیٹ اور کمبل پر لگ گئی ہے،اس وقت بیڈ شیٹ پر دھبہ نہیں تھا، لیکن بعد میں ظاہر ہو گیا، کمبل چونکہ لال رنگ کا ہے تو اس میں معلوم کرنا مشکل ہے،کل مقدار دھبوں کی تھوڑی سی ہے اور اس میں کوئی بدبو بھی نہیں، براہِ مہربانی بیان کیجئے کہ کیا مجھے بیڈ شیٹ اور کمبل دھونا چاہیے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں محتاط طریقہ تو یہی ہے کہ پوری بیڈ شیٹ اورکمبل کو دھو لیا جائے۔البتہ اگر پوری بیڈ شیٹ اورکمبل دھونا ممکن نہ ہو یا مشقت ہو تو شرعاً یہ بھی کافی ہے کہ جس جگہ نجاست کے لگنے کا احتمال یا غالبِ گمان ہو، اس حصے کو خوب اچھی طرح دھو لیا جائے، اس صورت میں بھی وہ کمبل اوربیڈ شیٹ پاک شمار ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وغسل طرف ثوب) أو بدن (أصابت نجاسة محلاً منه ونسي) المحل (مطهر له وإن) وقع الغسل (بغير تحر) وهو المختار، ثم لو ظهر وأنها في طرف آخر هل يعيد؟ في الخلاصة، نعم اھ
وفی الشامیۃ : (قوله: ونسي المحل) بالبناء للمجهول، ثم إن النسيان يقتضي سبق العلم والظاهر أنه غير قيد وأنه لو علم أنه أصاب الثوب نجاسة وجهل محلها فالحكم كذلك ولذا عبر بعضهم بقوله :"واشتبه محلها " تأمل. (قوله: هو المختار) كذا في الخلاصة والفيض، وجزم به في النقاية والوقاية والدرر والملتقى، ومقابله القول بالتحري والقول بغسل الكل، وعليه مشى في الظهيرية ومنية المفتي واختاره في البدائع احتياطاً قال: لأن موضع النجاسة غير معلوم، وليس البعض أولى من البعض اهـ (باب الانجاس، ج: 1، ص: 327، م: سعید)۔
و فی البدائع : وإن كانت النجاسة مرئية كالدم ونحوه، فطهارتها زوال عينها، ولا عبرة فيه بالعدد؛ لأن النجاسة في العين فإن زالت العين زالت النجاسة، وإن بقيت بقيت، ولو زالت العين وبقي الأثر، فإن كان مما يزول أثره لا يحكم بطهارته، ما لم يزل الأثر؛ لأن الأثر لون عينه، لا لون الثوب، فبقاؤه يدل على بقاء عينه وإن كانت النجاسة مما لا يزول أثره، لا يضر بقاء أثره عندنا اھ (فصل فی شرائط التطھیر بالماء، ج: 1، ص: 88، م: سعید)۔
وفي الفقه الاسلامي وادلته : يجب تطهير ما أصابته النجاسة ‌من ‌بدن ‌أو ‌ثوب ‌أو ‌مكان، لقوله تعالى: {وثيابك فطهر} [المدثر:4/ 74] الخ ( شروط وجوب الطھارۃ، ج: 1، ص: 240، م: رشیدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91625کی تصدیق کریں
0     138
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات