السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب
میرا ایک سوال حدیثِ مبارکہ کے بارے میں ہے جس میں پیشاب سے بچنے کی تاکید آئی ہے۔
حدیث میں آتا ہے:
"اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ"
(پیشاب سے بچو کیونکہ عذابِ قبر کی بڑی وجہ یہی ہے)
میرا سوال یہ ہے کہ اس حدیث سے مراد کیا ہے؟
عام حالات میں کپڑوں اور بدن کو پیشاب سے بچانا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ایک خاص صورت پوچھنی ہے:
اگر کوئی شخص رات کو سوتے وقت دن کے کپڑے بدل کر نائٹ ڈریس پہن لیتا ہے اور اپنی بیوی کے ساتھ لیٹتا ہے، اور اس دوران:
- کبھی مَذی کے چند قطرے
یا
- پیشاب کے ایک آدھ قطرے
کپڑوں یا بدن کو لگ جائیں،
اور وہ شخص فجر کے وقت اٹھ کر:
- استنجا کر لیتا ہے
- جہاں شک ہو بدن دھو لیتا ہے
- کپڑے تبدیل کر لیتا ہے
تو کیا ایسی صورت میں بھی وہ شخص اس حدیث کی وعید میں آئے گا اور گناہگار ہوگا؟
یا چونکہ وہ نماز سے پہلے پاکی حاصل کر لیتا ہے، اس لیے اس پر وعید لاگو نہیں ہوگی؟
براہ کرم قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ حدیث مبارک کی تشریح میں محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم نے جو تفصیل ذکر کی ہے ،اس سے معلوم ہوتا ہےکہ حدیث میں ذکرکردہ وعید اس شخص کے متعلق ہے جو کہ پیشاب کے قطروں سے پاکی حاصل کرنے میں کوتاہی و لاپرواہی کرے، اور کپڑوں پر لگنے کے باوجود اسے صاف نہ کرے،لہذا اگر کسی شخص کو وقتی نجاست لگ جائے جسے وہ بعد میں دھولے اور نماز کے لیے پاکی حاصل کرلے ، اور نجاست کو باقی نہ رکھے ، تو ایسا شخص مذکور حدیث کی وعید کے تحت داخل نہ ہوگا۔
وفی شرح النووی للمسلم: وسبب كونهما كبيرين أن عدم التنزه من البول يلزم منه بطلان الصلاة فتركه كبيرة بلا شك ( باب الدلیل علی نجاسۃ البول، ج: 3، ص: 201، ط: دار احیاء التراث العربی)
و فی التوضیح لشرح جامع الصحیح: كان لا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ" يعني أنه كان لا يستر جسده ولا ثيابه من مماسة البول، فلما عذب على استخفافه بغسله والتحرز منه، دل أنه مَنْ ترك البول في مخرجه ولم يغسله أنه حقيق بالعذاب ( باب ما جاء فی غسل البول، ج: 4، ص: 392، ط: دار النور سوریا)
وفی مرقاۃ المفاتیح: «أما أحدهما فكان لا يستتر من البول» ) : من الاستتار ويؤيده أنه أورد هذا الحديث في شرح السنة في باب الاستتار عند قضاء الحاجة، وفي نسخة صحيحة «لا يستنتر» . قال الأشرف في الغريبين والنهاية: يستنتر بنون بين التاءين من الاستنتار وهو الاجتذاب مرة بعد أخرى. قال الليث: النتر جذبه فيه قوة قيل: هذا هو الذي يساعد عليه المعنى لا الاستتار، وعليه كلام الشيخ محيي الدين الآتي، وفي الرواية الأخرى لا يستتر وهو غلط، كذا ذكره الطيبي وفيه: أن الاستنتار والاستبراء سنة عند الجمهور، والتكشف حرام عند الكل، والمقام مقام التعذيب لكونه كبيرة على ما حرر، فكيف هو الذي يساعده المعنى دون الاستتار وأنه غلط مع أنه رواية الأكثر وقد أورده البغوي في باب الاستتار، وأيضا لا يعرف أصل في الأحاديث للاجتذاب مرة بعد أخرى، بل جذبه بعنف يضر بالذكر ويورث الوسواس المتعب، بل المخرج عن حيز العقل والدين، ثم وهم ابن حجر وذكره بلفظ: لا يستبرئ من الاستبراء وجعله أصلا، ولم يذكر غيره مع أنه ليس أصل الشيخين، وإنما هو رواية ابن عساكر، وفي رواية أي لمسلم كما في نسخة الأصل «لا يستتر من البول» . قال الأبهري: في أكثر الروايات بمثناتين من فوق، الأولى مفتوحة والثانية مكسورة، وفي رواية ابن عساكر: لا يستبرئ بموحدة ساكنة من الاستبراء، وفي رواية لمسلم: لا يستنزه بنون ساكنة بعدها زاي ثم هاء. قال الشيخ: فعلى رواية الأكثر معنى الاستتار أنه لا يجعل بينه وبين بوله سترة يعني لا يتحفظ منه فيوافق رواية لا يستنزه لأنها من التنزه وهو الإبعاد اهـ. وهو جمع حسن ومآله إلى عدم التحفظ عن البول المؤدي إلى بطلان الصلاة غالبا وهو من جملة الكبائر. قال ميرك: وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ( «عامة عذاب القبر من البول، استنزهوا من البول» ) رواه البزار، والطبراني في الكبير، والحاكم، والدارقطني. ( باب آداب الخلاء، ج: 1، ص: 375، ط: دار الفکر بیروت)