کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک گاؤں ہو اور یہ بازار سے دور ہو تو اس بستی میں نماز جمعہ اور نماز عیدین جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کیوں اور کیسے ؟ شرائط بیان کریں۔ اور اگر نہیں جائز تو بھی شرائط تحریر کریں ، اور آپ ہمیں اس کے دلائل صحیح کتابوں اور مذہب حنفی کی روشنی میں عنایت فرما دیں۔
گاؤں یا چھوٹی بستی میں نماز جمعہ و عیدین کا قائم کرنا درست نہیں ہے، بلکہ جمعہ و عیدین کی صحت کے لیے مصر (شہر) یا قریہ کبیرہ کا ہونا شرط ہے اور ہمارے عرف میں قریہ کبیرہ اُسے کہتے ہیں جس کی آبادی کم از کم چار ہزار کے قریب ہو اور اس میں ایسا بازار ہو کہ جس میں چالیس پچاس دکانیں متصل ہوں اور یہ بازار روزانہ لگتا ہو اور اس بازار میں ضروریات روز مرہ کی ملتی ہوں مثلاً جوتے کی دوکان ہو کپڑے کی غلہ کی اور ڈاکٹر اور ڈاکخانہ مستری وغیرہ ہوں اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں لہذا اگر آپ کے گاؤں میں مذکورہ بالا شرائط پائی جاتی ہوں۔ تو وہاں جمعہ و عیدین کا قائم کرنا شرعاً جائز اور درست ہے اور اگر یہ شرائط مفقود ہوں تو اس گاؤں کے لوگوں پر یہ دونوں نمازیں واجب نہیں ۔ اور اگر شہر والوں کی ضروریات اس گاؤں سے وابستہ ہوں مثلاً شہر والوں کا قبرستان یا اسکول وغیرہ اس گاؤں میں ہو اور یہ شہر کے قریب بھی ہو تو اس صورت میں ان لوگوں پر نماز جمعہ و عیدین کا قائم کرنا ضروری ہے۔
قال في الهداية شرح البداية: لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى لقوله عليه الصلاة والسلام لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع اھ (1/ 82)
قال في کما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ (2/ 137) واللہ اعلم بالصواب