میرا یہ سوال ہے کہ ہم لوگ بلوچستان میں نجی تیل ا ور گیس کی کمپنی میں کا م کرتے ہیں جہاں ہمیں ٢١ دن چھٹی اور ٢١ دن ڈیوٹی کرنی پڑتی ہے ہمارا ایک کیمپ ہے اور اس کیمپ سے ایک چھوٹا شہر تقریباً ١٢ کلومیٹر دور ہے ، سیکورٹی حالا ت کی وجہ سے FC آرمی والے ہمیں اس شہر میں جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے ، چونکہ ہمارا کیمپ اور تیل کا کنواں بلوچستان کے بیابان پہاڑی علاقے میں واقعہ ہے جہاں کسی بھی آبادی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے سواۓ اس چھو ٹے شہر یا قصبے کے تو کیا ہم اپنی کیمپ کی مسجد میں جمعہ کی نماز کا باجماعت اہتمام کر سکتے ہیں یا پھر جمعہ نہیں ہو سکتا اسکے مطابق آگاہ کر دیں. جزاک اللہ
واضح ہو کہ عند الاحناف صحت جمعہ کے لیے شہر یا قصبہ اور بڑا گاؤں ہونا شرط ہے، جبکہ صورتِ مسئولہ میں مذکور کیمپ کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام نہ شہر ہے اور نہ ہی شہر کے مضافات میں واقع ہے ، بلکہ آبادی سے دور ایک صحراء اور بیابان ہے، یا وہاں پر کیمپ کے افراد کے رہائش اختیار کرنے کی وجہ سے اس کی حیثیت زیادہ سے زیادہ فقط ایک چھوٹے سے گاؤں اور بستی کی ہے، اس لیے احناف کے نزدیک مذکور مقام پر جمعہ قائم کرنا درست نہیں، بلکہ وہاں جمعہ کے دن قیام جمعہ کی بجائے نماز ظہر کی ادائیگی لازم ہے ، ورنہ جمعہ کے نام سے نوافل کی جماعت اور ظہر کے فرض کا ترک لازم آئے گا، جو بہت بڑا گناہ ہے۔
کما فی البدائع : وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها (باب الجمعۃ ، ج: ١،ص: ٢٥٩ ، مط: سعيد)
وفي الدر المختار : ( ويشترط لصحتها ) سبعة أشياء الأول ( المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها ) وعليه فتوى أكثر الفقهاء الى قوله( أو فناؤه ) بكسر الفاء ( وهو ما ) حوله ( اتصل به ) أولا كما حرره ابن الكمال وغيره
وفي الشامية تحت قوله (كما حرره ابن الكمال) فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك (باب الجمعة ،ج:٢ ص: ١٣٩،مط: سيعد)
وفي الهندية : ومن لا تجب عليهم الجمعة من أهل القرى والبوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة (الباب السادس في الجمعة،ج:١، ص: ١٤٥،مط : ماجدية)
و فی الھدایۃ : لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى لقوله عليه الصلاة والسلام لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع( باب صلوۃ الجمعۃ ،ج: 1،ص: 168،ناشر: مجیدیہ)