کیا فرماتے ہیں علماء دینِ و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ، گاؤں حیات خیل، جو گاؤں شہباز خیل سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر (1.5 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے، اس میں درج ذیل سہولیات اور ضروریاتِ عامہ موجود ہیں:
اس گاؤں کی آبادی تقریباً چار ہزار کے قریب ہے۔ یہاں پندرہ دکانیں، تین میڈیکل اسٹورز، ایک لیڈی ڈاکٹر کا ہسپتال، ایک زنانہ ڈینٹل کلینک اور ایک مرد ڈاکٹر موجود ہیں۔ پانی کے انتظام کے لیے آٹھ ٹیوب ویل، دو ٹانچیاں اور تقریباً دس پریشر پمپ ہیں، نیز تین آٹا چکیاں بھی موجود ہیں۔ تعلیمی اداروں میں دو مردانہ پرائمری سکولز، ایک مڈل سکول اور دو زنانہ سکولز قائم ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد ٹیوشن سینٹرز، ایک اسلامی مدرسہ اور خواتین کے لیے دینی درسگاہیں بھی قائم ہیں۔ مزید برآں گاؤں میں دس مساجد موجود ہیں۔ ایک درزی کی دکان ہے جبکہ درزی حضرات بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ اسی طرح ایک ٹیلی نار ٹاور، ایک الخدمت کمیٹی، ایک موچی، تقریباً چار بڑھئی اور ایک لوہار بھی موجود ہیں۔ اسی طرح ڈیزل و پیٹرول کی ایک ایجنسی، ویٹرنری ادویات کی دکان، حجامہ سینٹر اور قصاب حضرات بھی گاؤں میں موجود ہیں۔ گاؤں میں پائلٹ حضرات بھی موجود ہیں۔ مزید یہ کہ تین مفتیانِ کرام، کثیر تعداد میں علمائے کرام، حفاظِ کرام اور طلباء کرام بھی یہاں مقیم ہیں۔ نجی طور پر عورتوں کے کپڑوں اور چپلوں کی دکانیں، موٹر سائیکل کی پنکچر اور مرمت کی دکان، جیولر (سنار)، کباڑی کی دکان، دو گائے فارم اور ایک بڑا قبرستان بھی موجود ہے۔ اسی طرح موبائل فون مرمت کرنے والے مستری، برقی اشیاء کی مرمت کرنے والے کاریگر اور بجلی کی مرمت کرنے والے افراد بھی موجود ہیں۔ مزید برآں ایک ساونڈ سسٹم کی دکان بھی قائم ہے۔ گاؤں میں کمپاؤنڈر حضرات (طبی معاونین) بھی ہر وقت لوگوں کے علاج و معالجے کے لیے دستیاب رہتے ہیں۔ لیڈی ڈاکٹر (زچہ و بچہ کے کیسز) کی وجہ سے اطراف کے دیہات کے لوگ بھی علاج کی غرض سے اسی گاؤں کا رخ کرتے ہیں۔ پانی کا باقاعدہ نظام بھی موجود ہے اور یہاں میٹھا پانی کافی مقدار میں دستیاب ہے، جس سے اطراف کے کئی گاؤں اپنی پانی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔لہٰذا مذکورہ بالا صورتحال کی روشنی میں ازراہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائی جائے کہ:
گاؤں حیات خیل میں نمازِ جمعہ اور عیدین کا کیا حکم ہے؟ کیا یہاں شرعاً جمعہ و عیدین قائم کرنا درست ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ نماز جمعہ و عیدین کی وجوب اور درستگی کے لیے اس علاقے کا باقاعدہ شہر یا بڑے قصبہ کا ہونا ضروری ہے، جبکہ ہمارے علم میں قصبہ کی تعریف یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں چالیس، پچاس دکانیں متصل ہوں اور بازار روزانہ لگتا ہو اور اس بازار میں ضروریات روز مرہ کی تمام اشیاء ملتی ہوں، مثلاً: جوتے کی دوکان بھی ہو، کپڑے کی بھی ، عطار کی بھی ہو ، بزار کی بھی، غلے کی بھی ہو اور دودھ گھی بھی، اور وہاں ڈاکٹر حکیم بھی ہوں وغیرہ، اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہو اور پولیس تھا نہ یا چوکی بھی، اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں، پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں وہاں جمعہ صحیح ہوگا ، اور قریہ کبیرہ کی تعریف عرف میں یہ ہے کہ جس کی آبادی تین سے چار ہزار تک ہو اور اس میں ضروریات زندگی میسر ہوں ، اس میں بھی جمعہ کا قیام درست ہے ۔ لہٰذا سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق گاؤں "حىات خىل" بظاہر قریہ کبیرہ کے ان شرائط پر پورا اتر تا ہے، اس لیے یہاں جمعہ وہ عیدین کا قیام شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا۔
كما في الهداية: لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى" لقوله عليه الصلاة والسلام "لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع" والمصر الجامع كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وهذا عند أبي يوسف رحمه الله (إلى قوله) والحكم غير مقصور على المصلي بل تجوز في جميع أفنية المصر لأنها بمنزلته في حوائج أهله اهـ (كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، ج:1، ص:82، ط: دار إحياء التراث العربي).
وفي البدائع والصنائع: أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه (إلى قوله) أما المصر الجامع فقد اختلفت الأقاويل في تحديده ذكر الكرخي أن المصر الجامع ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام، وعن أبي يوسف روايات ذكر في الإملاء كل مصر فيه منبر وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود فهو مصر جامع تجب على أهله الجمعة، وفي رواية قال: إذا اجتمع في قرية من لا يسعهم مسجد واحد بنى لهم الإمام جامعا ونصب لهم من يصلي بهم الجمعة، وفي رواية لو كان في القرية عشرة آلاف أو أكثر أمرتهم بإقامة الجمعة فيها، وقال بعض أصحابنا: المصر الجامع ما يتعيش فيه كل محترف بحرفته من سنة إلى سنة من غير أن يحتاج إلى الانتقال إلى حرفة أخرى، (إلى قوله) وقال سفيان الثوري: المصر الجامع ما يعده الناس مصرا عند ذكر الأمصار المطلقة، (إلى قوله) وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح اهـ (كتاب الصلاة، فصل بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:259-260، ط: دار الكتب العلمية).
وفي الدر المختار: (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى، وفي القهستاني: إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقا على ما قاله السرخسي وإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه فليحفظ (أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا، كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجي، (و) الثاني: (السلطان) إلخ
و في رد المحتار تحت قوله: (وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة إلخ (كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج 2، ص:137-139، ط: سعيد)