نجاسات اور پاکی

آٹومیٹک مشین میں کپڑے دھونے سے پاکی کا حکم

فتوی نمبر :
93986
| تاریخ :
2026-04-09
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

آٹومیٹک مشین میں کپڑے دھونے سے پاکی کا حکم

اسلام وعلیکم

میں 1997میں شادی ہو کر یوکے آگئی اور جب سے آٹومیٹک واشنگ مشین میں کپڑے دھو رہی ہوں ۔ اب ٹی وی پر ایک مفتی صاحب کو یہ کہتے سنا کہ اگر تین دفعہ پانی نہی آیا اور گیا تو کپڑے پاک نہی ہوئے ۔ مجھے بلکل یاد نہی میں نے کب کونسی واشنگ سائیکل استعمال کی ۔ سب سے چھوٹی سائیکل بھی تیس منٹ کی ہوتی ہے جس میں تقریباً دس بارہ منٹ تک کپڑے پانی اور صابن میں مستقل گھومتے ہیں پھر سارا پانی باہر چلا جاتا ہے اور صاف پانی آتا ہے اور پھر اس پانی میں بھی کپڑے دس سے بارہ منٹ خوب گھومتے رہتے ہیں پھر وہ سارا پانی نکل جاتا ہے اور پھر spin ہوجاتا ہے ۔ اب مجھے یاد نہی مگر مشین سے کپڑے بلکل صاف ستھرے ہوکر نکلتے تھے۔ کوئی داغ دھبہ نہی کوئی بدبو نہی ۔ اگر پاک نہی ہوئے تو کیا ان کپڑوں میں پڑھی نمازیں قبول نہی ہونگی کیونکہ میں میرے پانچوں بچے اور شوہر سب نماز کے پابند ہیں۔ مجھے یہ بھی یاد نہی کہ کب کونسا کپڑا صاف کپڑوں کے ساتھ دھویا میرے بچوں کا کبھی کبھار سوتے میں پیشاب نکل گیا تو وہ کپڑے بھی مشین میں ہی دھلے ایسا بہت زیادہ تو نہی ہوا کبھی کبھار ہی ہوامگر ہوا۔ بچوں کی الٹی ناک سے نکسیر اور خواتین کی جو ناپاک چیزیں ہوتی ہیں وہ سب کپڑے مشین میں ہی دھلتے رہے ۔تو اب کیا کرسکتے ہیں ؟ جب یاد ہی نہی تو نمازوں کی تعداد کیسے یاد ہوگی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ناپاک کپڑوں کو پاک کرنے کا طریقہ اگرچہ یہی ہے کہ انہیں تین دفعہ پاک پانی سے دھوکر ہر دفعہ نچوڑا جائے، تاکہ ناپاکی زائل ہونے کا یقین یا غالب گمان حاصل ہوجائے، لیکن اگر ناپاک کپڑوں پر ایک یا دو دفعہ بھی اس قدر پانی بہایا جائے، کہ جس سے کپڑوں سے ناپاکی زائل اور ختم ہونے کا یقین یا غالب گمان ہوجائے، تو وہ کپڑے شرعا پاک شمار ہونگے، لہذا سائلہ نے آٹومیٹک واشنگ مشین میں جو ناپاک کپڑے دھوئے ہیں، ان پر اگر اس قدر پانی بہایا گیا تھا کہ جس سے ان کپڑوں کے پاک ہونے کا غالب گمان ہوچکا تھا، تو ایسی صورت میں اگرچہ ان کپڑوں کو تین دفعہ دھوکر نچوڑا نہ گیا ہو تب بھی شرعا وہ کپڑے پاک ہوچکے تھے، چنانچہ ان کپڑوں میں پڑھی گئی نمازوں کا اعادہ لازم نہیں تاہم آئندہ کے لیئے کپڑوں کو پاک کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الهندیة: وإن كانت غیر مرئیة یغسلها ثلاث مرات كذا فی المحیط ویشترط العصر فی كل مرة فیما یتعصر ویبالغ فی المرة الثالثة حتی لو عصر بعده لا یسیل منه الماء ویعتبر فی كل شخص قوته. اهـ ( الباب السابع فی النجاسۃ، ج: 1، ص: 42، ط: ماجدیہ)
وفی الدر المختار: وأما فی الثالث فإن كان مما یمكن عصره كالثیاب فطهارته بالغسل والعصر إلی زوال المرئیة وفی غیرها بتثلیثهما. اهـ (باب الانجاس، ج: 1، ص: 332، ط: سعید)
و فی ا لھندیہ: "النجاسة إن كانت غليظةً وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة وإن كانت خفيفة فإنها لا تمنع جواز الصلاة حتى تفحش. كذا في المضمرات." (الباب الثالث فی شروط الصلاۃ، ج:1، ص:58، ط:مكتبة رشيدية)
وفی بدائع الصنائع: إذ ‌الحرج ‌مدفوع شرعا (فصل فی حکم صلات الخوف اذا فسدت، ج: 1، ص: 246، ط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93986کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات