میں ملازمت کے سلسلے میں افریقی ملک موزمبیق میں مقیم ہوں اور میرا قیام یہاں چھ ماہ ہوتا ہے اور ہم لوگ شہر سے کافی دور کام کرتے ہیں جہاں ہم کام کرنے جاتے ہیں تو وہاں عارضی طور پر ایک کنٹینر میں مسجد بنائی ہے جہاں ہم ظہر اور عصر کی نماز ادا کرتے ہیں اب ہم وہاں جمعہ کی نماز پڑھنا چاہتے ہیں تقریباً دس افراد ہیں۔ باقی فجر اور عشاء ہم اپنے کیمپ کی مسجد میں ادا کرتے ہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے سوال میں مذکور جگہ کی جو کیفیت بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ جگہ شہر سے دور اور غیر آباد مقام ہے جس کو قصبہ یا دیہات بھی نہیں کہا جا سکتا۔اور شہر کے مضافات میں بھی شمار نہیں کہا جاسکتا اگر واقعۃً ایسا ہی ہے(جو سوال میں واضح ہو رہا ہے) تو واضح رہے کہ عند الاحناف شہر یا اس کے مضافات اور قریۂ کبیرہ کے علاوہ کسی جگہ جمعہ کا قیام درست نہیں بلکہ ظہر پڑھنا لازم اور فرض ہے۔ اس لئے سائل اور فقہِ حنفی سے تعلق رکھنے والے دیگر ملازمین پر لازم ہے کہ وہ دیگر ایام کی طرح جمعہ کے دن بھی نمازِ جمعہ کے بجائے ظہر کی ادائیگی کا اہتمام کریں۔
كما فی الھدایة :لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى" لقوله "لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع" والمصر الجامع كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وهذا عند أبي يوسف .اخ(باب صلاة الجمعة،ج:1،ص:82،ط:دار احیاء التراث)
و فی البناية:وعن أبي حنيفة: تجب إذا كن يجيء خراجها مع المصر، وفي " الذخيرة ": في ظاهر رواية أصحابنا لا يجب شهود الجمعة إلا على من سكن المصر والأرباض دون السفر، وسواء كان قريبا من المصر أو بعيدا عنها.وعن محمد: إذا كان بينه وبين المصر ميل أو ميلان أو ثلاثة أميال فعليه الجمعة، وهو قول مالك والليث. وفي " منية المفتي ": على أهل السواد الجمعة إذا كانوا على قدر فرسخ، هو المختار، وعنه إذا كان أقل من فرسخين تجب، وفي الأكثر لا، وفي رواية: كل موضع لو خرج الإمام إليه صلى الجمعة تجب، وعن معاذ بن جبل: يجب الحضور في خمسة عشر فرسخا.اھ(المكان الذي تصح فيه الجمعة،ج:3،ص:42،ط:دار الکتب العلمیۃ)
و فی البدائع :أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها وقال الشافعي المصر ليس بشرط للوجوب ولا لصحة الأداء فكل قرية يسكنها أربعون رجلا من الأحرار المقيمين لا يظعنون عنها شتاء ولا صيفا تجب عليهم الجمعة ويقام بها الجمعة واحتج بما روي عن ابن عباس أنه قال أول جمعة في الإسلام بعد الجمعة بالمدينة لجمعة جمعت بجواثى وهي قرية من قرى عبد القيس بالبحرين.اھ(فصل بيان شرائط الجمعة،ج:1،ص:259،ط:سعید)