لے پالک 14 سال کے بچے کے ساتھ میری بیوہ نند رہ سکتی ہے؟ دودھ بھی نہیں پلایا اور ساتھ کوئی اور بھی نہیں رہتا اور اصل ماں باپ بھی زندہ ہیں ،اور گھر کے قریب ہی رہتے ہیں۔ جو ماں کو پھوپھی کہتا ہو۔ اور کاغذات میں نام بھی تبدیل ہے اصل باپ کا نہیں۔
واضح رہے کہ قرابت یا رضاعت کے رشتے کے بغیر کسی بچے کو محض متبنیٰ( یعنی لے پالک) بنانے اور پرورش کرکے بڑا کرنے سے وہ بچہ متبنیٰ بنانے والی عورت کا محرم نہیں بن جاتا بلکہ وہ اجنبی ہی رہتا ہے ۔اور کسی عورت کا اجنبی بالغ یا قریب البلوغ لڑکے کے ساتھ ادنی وقت کے لئے بھی خلوت میں جانا شرعاً ممنوع اور حرام ہے ،چہ جائیکہ اس کے ساتھ الگ مکان میں مستقل رہائش اختیار کرلی جائے۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ بیوہ خاتون پر لازم ہے کہ وہ اپنے لے پالک بچے سے دوری اختیار کرے اور اسے اپنے گھر میں ٹھہرانے کے بجائے اس کے والدین کے حوالے کرے۔ جبکہ کسی بچے کی ولدیت کو اپنے والدین کے علاوہ پرورش کرنے والے کی طرف منسوب کرنا چونکہ بنصِّ قرآنی حرام ہے اس لئے مذکورہ بچے کو تمام کاغذات اور دستاویزات میں اس کے اصل والد کی طرف منسوب کرکے ریکارڈ کی درستگی کا اہتمام کیا جائے، نیز اس کے علاوہ عام بول چال اور تعارف میں بھی اسے اپنے والد ہی کی طرف منسوب کرنا لازم ہے۔
قال اللہ تبارک و تعالیٰ: وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (سورۃ الأحزاب: الآیۃ:4۔5]۔
وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا لايبیتن رجل عند امرأة ثيب إلا أن يكون ناكحاً أو ذا محرم . رواه مسلم (ج:2 ص:203)۔
عن عقبة بن عامر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اياكم والدخول على النساء! فقال رجل من الانصار: يا رسول الله! افرايت الحمو؟ قال: الحمو الموت. قال: وفي الباب عن عمر وجابر وعمرو بن العاص، قال ابو عيسى: حديث عقبة بن عامر حديث حسن صحيح، وانما معنى كراهية الدخول على النساء على نحو ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يخلون رجل بامراة الا كان ثالثهما الشيطان. (ترمذي)
في الخانية قال الصبي الذي يجامع مثله كالبالغ قالوا وهو أن يجامع ويشتهي، وتستحي النساء من مثله وهو ظاهر في اعتبار كونه مراهقا (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب النکاح، ج 03، ص 35، مطبوعہ بیروت)۔