ہمارے شہر میں حکومت کی جانب سے یہ سخت ہدایت جاری کی گئی ہے کہ جمعہ کے دن مسجد کے باہر سڑکوں، فٹ پاتھوں اور دیگر عوامی مقامات پر نمازیوں کا اجتماع نہ ہو۔ اس حکم کی پابندی کرانے کے لیے پولیس بھی تعینات کی جاتی ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کا اندیشہ رہتا ہے۔
1]ایسی صورت میں اگر مسجد میں آنے والے نمازیوں کی تعداد مسجد کی گنجائش سے زیادہ ہو جائے اور سب نمازی ایک ہی وقت میں مسجد کے اندر جمع نہ ہو سکیں، تو کیا ایک ہی مسجد میں دو الگ الگ جماعتوں کے ساتھ دو جمعے (دو شفٹوں میں) ادا کرنا شرعاً جائز ہوگا؟ اگر جائز ہو تو اس کی شرائط اور حدود کیا ہوں گی؟
2]نیز ایک دوسرا متعلقہ سوال یہ ہے کہ اگر مسجد کے ساتھ ایک بڑا قبرستان موجود ہو، جس میں قبروں کے علاوہ کھلی جگہیں، راستے، فوارے، درگاہ وغیرہ بھی موجود ہوں اور وہاں بڑی تعداد میں لوگوں کے کھڑے ہونے کی گنجائش ہو، تو کیا جمعہ کی ایک ہی جماعت قائم رکھنے کے لیے بعض نمازی قبرستان کے حصے میں نماز ادا کر سکتے ہیں؟
بالخصوص درج ذیل صورت کی وضاحت فرما دیں:
A] اگر نمازیوں کے سامنے (قبلہ کی سمت) قبریں نہ ہوں، بلکہ قبریں دائیں، بائیں یا پیچھے کی جانب ہوں، تو کیا حکم ہے؟
B] اگر نمازیوں کے سامنے (قبلہ کی سمت) قبریں ہوں ، تو کیا حکم ہے؟
مذکورہ صورت میں ایک جمعہ قائم کرنا بہتر ہوگا یا مسجد میں دو الگ الگ جمعے قائم کرنا؟
واضح ہو کہ محلہ کی مسجد میں جب ایک دفعہ اہلِ محلہ اذان واقامت کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرلیں تو اسی مسجد میں دوسری جماعت کرانا (خواہ جمعہ کی نماز ہی کیوں نہ ہو) عند الأحناف مکروہ ہے، نیز یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جمعہ کی صحت کے لیے مسجد کا ہونا شرعاً لازم نہیں، بلکہ کھلے میدان میں بھی جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ یہ نماز شہر یا بڑے قصبہ میں ادا کی جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جگہ کی تنگی کے باعث ایک مسجد میں جمعہ کی متعدد جماعت کرانا شرعاً مکروہ عمل ہے، جس سے احتراز لازم ہے، بلکہ ایسی صورت میں دیگر قریبی مساجد پر یا کسی کھلے بڑے میدان میں جمعہ کی نماز قائم کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تاہم اگر قریب میں کوئی دوسری مسجد موجود نہ ہو یا پھر مسجد کے علاوہ کسی کھلے میدان میں حکومت کی طرف سے نماز جمعہ کی اجازت نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں مسجد کے ساتھ متصل مذکور قبرستان میں بھی نمازِ جمعہ کی صفیں قائم کی جاسکتی ہیں، البتہ اس صورت میں اقتداء کے درست ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ صفیں اس تسلسل کے ساتھ قائم کی جائیں کہ پیچ میں دو صفوں کے برابر جگہ خالی نہ ہو، تاکہ اتصالِ صفوف برقرار رہے، البتہ جو نمازی قبرستان میں نماز ادا کررہے ہوں، اگر ان کے دائیں، بائیں یا پیچھے کی جانب قبریں موجود ہوں تو کوئی حرج نہیں، البتہ اگر ان کے سامنے قبلہ کی جانب قبریں موجود ہوں تو نمازیوں اور قبروں کے درمیان کوئی سترہ وغیرہ رکھ دیا جائے، تاکہ نماز بلا کراہت درست ادا ہوجائے ۔ بہر کیف مذکور مسجد میں الگ الگ جمعہ کی جماعت کرانے کے بجائے ایک ہی جماعت کرانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
ففي الدر المختار: «(وكذا أهل مصر فاتتهم الجمعة) فإنهم يصلون الظهر بغير أذان ولا إقامة ولا جماعة.»
وفي حاشية ابن عابدين: ولنا «أنه عليه الصلاة والسلام كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى المسجد وقد صلى أهل المسجد فرجع إلى منزله فجمع أهله وصلى» ولو جاز ذلك لما اختار الصلاة في بيته على الجماعة في المسجد ولأن في الإطلاق هكذا تقليل الجماعة معنى، فإنهم لا يجتمعون إذا علموا أنهم لا تفوتهم. (1/ 553)
وفيه أيضا: «وقال في الحلية: وتكره الصلاة عليه وإليه لورود النهي عن ذلك» (2/ 245)
وفي الفقه على المذاهب الأربعة: «الصلاة في المقبرة» «وكذا تكره الصلاة في المقابر على تفصيل في المذاهب»
«الحنفية قالوا: تكره الصلاة في المقبرة إذا كان القبر بين يدي المصلي؛ بحيث لو صلى صلاة الخاشعين وقع بصره عليه. أما إذا كان خلفه أو فوقه أو تحت ما هو واقف عليه، فلا كراهة على التحقيق. وقد قيدت الكراهة بأن لا يكون في المقبرة موضع أعد للصلاة لا نجاسة فيه ولا قذر، وإلا فلا كراهة، وهذا في غير قبور الأنبياء عليهم السلام، فلا تكره الصلاة عليها مطلقاً.»(1/ 253)