السلام علیکم! نمازِ جمعہ کے بعد کتنی رکعت سنت ہیں؟ حدیث کیا کہتی ہے؟ تغییر زمانہ کیا کہتا ہے؟ نیز سنتیں آج جبکہ عام طور پر لوگ پڑھتے ہی نہیں گھر میں پڑھنی چاہیئے یا مسجد میں؟ حدیث کیا کہتی ہے؟
عند الاحناف صحیح اور راجح قول کے مطابق نمازِ جمعہ کے بعد چھ رکعت سنت ہیں، اس لیے ان کا التزام بھی چاہیئے، پھر اگرچہ بجائے مسجد کے گھر میں بھی ان کا اہتمام جائز اور درست ہے، مگر عام طور پر گھر میں پڑھنے سے رہ جاتی ہیں اور فوت ہونے کا اندیشہ شدید ہے، اس لیے مسجد میں ہی ان کی ادائیگی کا اہتمام چاہیئے۔
ففی سنن ابن ماجه: عن ابن عباس، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم: «يركع قبل الجمعة أربعا، لا يفصل في شيء منهن» اھ (1/ 358)
وفی منیة المصلی: والسنة قبل الجمعة أربع وبعدها أربع وعند أبی یوسف السنة بعد الجمعة ست رکعات وهو مروی عن علی رضی اللہ عنه والأفضل أن یصلی أربعاً ثم رکعتین للخروج عن الخلاف اھ (ص: ۲۸۸)
وفی الهدایة: ویصلی قبلها أربعاً وفی روایة ستاً الأربع سنة ورکعتان تحیة المسجد وبعدها اربعاً أو ستاً علی حسب الاختلاف فی سنة الجمعة وسنة توابع لها اھ (۱/ ۱۴۳۲)
وفی الدر المختار: (وسن) مؤكدا (أربع قبل الظهر و) أربع قبل (الجمعة و) أربع (بعدها بتسليمة) فلو بتسليمتين اھ (2/ 12)واللہ اعلم