نجاسات اور پاکی

قطرے نکلنے کی صورت میں غسل و طہارت کا حکم:

فتوی نمبر :
9941
| تاریخ :
2010-10-11
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

قطرے نکلنے کی صورت میں غسل و طہارت کا حکم:

مجھے آپ سے طہارت کے بارے میں یہ مسئلہ پوچھنا ہے کہ میں ابھی آفس میں ہوں، نیٹ پر کام کرتے کرتے میں فیس بک پر اکاؤنٹ بناتے بناتے کچھ غلط ویب سائٹ اور لائیو چیٹ اکاؤنٹ میں جاکر کچھ واہیات قسم کی تصاویر دیکھ لی تھیں، دیکھنے کے بعد میں وضو کرکے نماز پڑھنے چلا گیا، نماز پڑھ کر جب میں واپس آیا، کھانا کھاکر جب میں واش روم گیا تو اس وقت قطرات آگئے تھے، لیکن یہ قطرے بعد میں آئے ہیں۔ کیا میرا غسل ٹوٹ گیا؟ اور کیا کپڑے بھی ناپاک ہوگئے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایسے مواقع پر نکلنے والے قطرے پیشاب کے بعد عام طور پر ’’ودی‘‘ کہلاتے ہیں جو محض ناقضِ وضو ہوتے ہیں موجبِ غسل نہیں، پس جب وضو کرکے نماز پڑھ لی گئی اور اس کے کچھ دیر بعد ان قطروں کو دیکھا گیا تو نماز درست ادا ہوچکی ہے اور ان قطروں کے خروج سے غسل واجب نہیں ہوا البتہ کپڑوں کے جن حصوں پر نجاست لگی ہے اس کا دھونا اور دوبارہ وضو کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدّر: وفرض الغسل عند خروج منی (إلی قوله) لا عند مذی أو ودی بل الوضوء منه اھ(۱ /۱۶۵)
وفی الهندیة: المذی ینقض الوضوء وكذا الودی والمنی اذا خرج من غیر شهوة اھ(۱/۱۰)
وفی الهندیة: كل ما یخرج من بدن الإنسان مما یوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمنی. والمذی والودی والقیح والصدید والقئی اذا ملأ الفم كذا فی البحر الرائق اھ (۱/۴۶)
وفی الشامیة: تحت (قوله أو ودی) (إلی قوله) ماء ثخین ابیض كدر یخرج عقب البول اھ (۱/۱۶۵)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
زاہد اللہ امان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 9941کی تصدیق کریں
0     904
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات