السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ!
مفتیان کرام مسئلہ ہے قربانی کی کھالوں کی رقم کا، ہم نے صرف اپنی برادری سے قربانی کی کھالیں حاصل کیں ہیں، برائے مہربانی ہمیں شرعی حوالے سے بتائیے کہ قربانی کی کھالوں کی رقم کن امور میں صرف کی جاسکتی ہیں؟ کچھ معاملات جیسے کے نیچے درج ہیں، ان معاملات میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۱) تعلیمی معاملات (۲) علاج و معالج یا ایمبولینس خریدنا (۳) ترقیاتی کام (۴) فلاح و بہبود (۵) قرض (۶) شادي بياه ،ساتھ یہ بھی فرمائیے، کیا مذکورہ بالا قسم کے استعمال کی کوئی خاص مدت ہوتی ہے؟ کچھی مسلم مندرہ جماعت ۔شکریہ
قربانی کی کھال بیچنے کے بعد اس سے حاصل ہونے والی رقم واجب التصدق ہوتی ہے، اور خالص فقراء و مساکین کا حق بن جاتی ہے، اس لئے مذکور مدّات کی تعمیر و ترقی کے لئے خرچ کرنے کی بجائے مستحقین کو اس رقم یا اس کے ذریعہ کوئی چیز خرید کر اس پر انہیں مالک بنا کر دی جائے ،تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنی ضروریات میں خرچ کریں۔
كما في الدر المختار: (فإن) (بيع اللحم أو الجلد به) أي بمستهلك (أو بدراهم) (تصدق بثمنه) (6/ 328) -
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0